شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 268
شخص تعالی دلانا چاہتا ہے من کے مفہوم کا تصور خود اس کے اندر آجاتا ہے کیونکہ جو ان چاروں مراتب میں سے کسی مرتبہ کا پورے طور پر جامع ہو۔وہ زمرہ میں بدرجہ اولی داخل ہوگا۔پس یہ شان خاتم النبیین کے افاضہ کا کمال ہے کہ وہ آپ کے امتی کو جامعیت کمال کے ساتھ اس مقام پر کھڑا کر سکتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرنے۔آدمم نیز احمد مختار در برم جامه همر ابرار لیکن جامعیت کا یہ شرف اُس کو چونکہ خلقی اور طفیلی طور پر ملے گا۔اس لئے ساتھ ہی وہ یہ اقرار کر نے پر مجبور ہوگا سے لیک آئینہ ام زرت غنی از پیسے صورت میر مدنی ** اس طرح اقتی کا وجود خاتم النبی صل اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں آئینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اور انتی کے تمام کمالات خواہ وہ جامعیت کی حد تک پہنچے جائیں ہمیشہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے فیل اور کس ہی ہوتے ہیں۔اگر ہم کسی اور سادہ مثال کے ذریعہ خاتم النبیین کی شان کا تصور دلانا چاہیں تو کسی حد تک اس بات سے بھی اس مرتبہ کا تصور ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیثیت روحانیت کے لحاظ سے شہنشاہ کی ہے اور باقی تمام انبیاء کی حقیت روحانی بادشاہ کی۔یہ عقیدہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت میں مقام نبوت بھی مل سکتا ہے۔اور کمالات انبیاء بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو تمام انبیاء کے مقابلہ میں ممتاز قرار دیتا ہے۔اور جماعت احمدیہ کے اس عقیدہ سے ظاہر ہے کہ اس جماعت کے نزدیک سرور کائنات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اتنی بلند ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے اور جب تک قائم رہے گی۔اس شان میں حقیقت کے لحاظ سے کوئی آپ کا شریک نہیں۔صرف خلقی طور پر کمالات و انوار نبوت کا وارث ہو سکتا ہے۔