شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 267
۲۶۷ - ایک جگہ میں اکٹھے ہوں۔مثلاً ایک گھر میں ہوں۔دوم معیت زمانی -۔جیسے دونوں اکھٹے پیدا ہوں۔سوم معیت متضا لفین۔یعنی ایسی دو حقیقتوں کو سمجھنے میں معیت جن میں ایک کا سمجھنا دوسری کے سمجھنے پر موقوف ہو۔جیسے باپ اور بیٹا کی حقیقت کو ایک دوسرے کے ساتھ یعنی ایک دوسرے کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔محبت چہارم کے متعلق وہ فرماتے ہیں :- وَإِمَّا فِي الشَّرْفِ وَالرُّبة۔کہ چوتھی قسم کی معیت وہ ہے جو شرف اور رتبہ کے لحاظ سے ایک کو دوسرے کا رفیق بنا دے۔اس آیت میں مکہ کے صرف چوتھے معنے ہی مراد ہو سکتے ہیں۔پہلے تین منے مراد نہیں ہو سکتے۔معر کا لفظ قرآن کریم نے من کی بجائے اختیار کرنے میں معجزانہ بلاغت کا ثبوت دیا ہے۔اگر اس جگہ مع کی بجائے مین کا لفظ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان خاتم النبیین کا بلحاظ افاضہ کے صرف اتنا تصور ہوتا کہ آپ کی پیروی سے ایک شخص زمرہ انبیاء میں داخل ہو سکتا ہے۔اور زمرہ صد یقین اور زمرہ شہداء اور زمرہ صالحین میں داخل ہو سکتا ہے۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی شان خاتم النبیین کا تصور بلحاظ افاضہ اِس مقام سے بھی بالا تھا اس لئے معر کا لفظ اختیار کیا گیا جو آپ کی اُس شان کا تصور دلاتا ہے کہ آپ کی پیروی سے آپ کا انتی صرف انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے گروہ کا ایک فرد ہی نہیں بنتا بلکہ اس سے بڑھ کہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے تمام کمالات کا جامع بھی ہو سکتا ہے۔اگر مین کا لفظ ہوتا تو جامعیت کا یہ مفہوم آیت سے اخذ نہ ہو سکتا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ کا تصورہ اس سے کم درجہ کا ہوتا جو خدا تعالیٰ مَعَ کے ذریعہ دلانا چاہتا ہے۔مع کے لفظ سے جو تصویر اللہ