شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 260
۲۶۰ کی نبوت خاتمیت زمانی کی اس غرض کے منافی نہیں کیونکہ وہ تابع اور اتنی نبی ہونے کے مدعی ہیں۔آپ کے نزدیک شریعت محمدیہ کامل شریعیت ہے اور قیامت تک اُس کا کوئی نقطہ اور شوشہ منسوخ نہیں ہوسکتا۔اور کسی نئے دین اور علم کی ضرورت نہیں۔پس جب خاتمیت زمانی کی غرض مولوی محمد قاسم صاحب کے نزدیک یہ ہوئی کہ شریعت محمدیہ مفشوخ نہ ہو تو ایسے نبی کی بعثت جو ناسخ شریعت محمدیہ نہ ہو اور نئے دین اور علم لانے کا مدعی نہ ہو۔آپ کے نزدیک ممتنع بالغیر نہ ہوتی۔ناسخ شرع محمد ی ہونے کا دعویٰ اور تقلہ نبوت کا دعویٰ تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک بھی گھر ہے۔مولوی محمد قاسم صاحب مولوی عبد العزیز صاحب کے جواب میں لکھتے ہیں :- اسے بھی جانے دیجئے آپ خاتمیت مرتبی کو مانتے ہی نہیں۔خاتمیت زمانی کو ہی آپ تسلیم فرماتے ہیں۔خیر اگرچہ اس میں در پہ دہ انکار افضلیت تامہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم لازم آتا ہے۔لیکن خاتمیت زمانی کو آپ اتنا عام نہیں کر سکتے جتنا ہم نے خاتمیت مرتبی کو عام کر دیا تھا ؟ ( مناظره عجیبه منا ) پس خاتمیت زمانی اُن کے نزدیک نسبتا ایک محدود و صورت رکھتی ہے اسی لئے وہ انحصرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کے قائل ہوتے ہوئے مسیح نبی اللہ کے امت محمدیہ میں آنے کے قائل ہیں۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتمیت مرتبی کے لحاظ سے ابو الانبیاء قرار دینے کے بعد آپ کی تصدیق کی عرض کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتے ہیں :۔بعد نزول حضرت عیسی " کا آپ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر ملتی ہے۔ادھر رسول اللہ کا ارشاد علمتُ عِلْمَ الْأَوَّلِينَ والأخرين بشرط نہم اسی جانب مشیر ہے یا (تحذیر الناس منہ )