شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 259 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 259

۲۵۹ افراد مقدرہ دن کا آنا تجویز یا جانے پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائیگی بلکه بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صل اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو توپھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا " ستحذیر الناس من ۲ ) بعض لوگ جیسا کہ مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی کہتے ہیں کہ مولوی حمد قاسم صاحب کی یہ عبارت بطور فرض محال کے ہے۔کیونکہ وہ خاتمیت زمانی کے بھی قائل ہیں کیونکہ وہ لکھتے ہیں "خاتمیت زمانیہ اپنا دین و ایمان ہے۔ناحق کی تہمت کا البتہ علاج نہیں۔دیکھو مناظرہ عجیبہ مشت نیز لکھتے ہیں : " افتتاع بالغیر میں کیسے کلام ہے اپنا دین و ایمان ہے کہ بعد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کریے اس کو کافر سمجھتا ہوں " ( مناظرہ مجیبہ ) بیشک مولوی محمد قاسم صاحب خانمیت زمانی کے بھی قائل میںمگر خاتمیت زمانی سے مراد اُن کی یہ ہے کہ کوئی شارع بنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔اسی کروہ ممتنع بالغیر سمجھتے ہیں۔اور ایسی نبوت کے مدعی کو ہی کافر سمجھتے ہیں۔مولوی محمد قاسم صاحب کے نزدیک خاتمیت زمانی کی غرض ! چنانچه مولوی صاحب موصوف خاتمیت زمانی کی غرض مناظرہ عجیبہ نا تم میں یہ بیان کرتے ہیں :۔غرض خاتمیت زمانی سے یہ ہے کہ دین محمدی بعد ظہور منسوخ نہ ہو۔علوم نبوت اپنی انتہا کو پہنچ جائیں کیسی اور نبی کے دین یا علم کی طرف پھر بنی آدم کو احتیاج باقی نہ رہے " اس سے ظاہر ہے کہ ممتنع بالغیر اور گھر ان کے نزدیک ایسی شہرت کا دعویٰ ہو گا جوخاتمیت زمانی کی اس غرض کے منافی ہو۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام