شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 240
۲۴۰ کے لحاظ سے اپنے معنے متعین کر دیتے ہیں۔بزرگان دین اور اہل علم اصحاب نے کئی لوگوں کو خاتم الاولیاء با اتم الحج يا خاتم الحفاظ يا خاتم المفسرين يا خاتم الشعراء یا خاتم الاکا بر قرار دیا ہے یا عقل کو خاتم انگل کہتے ہیں یا بادشاہ کو خاتم الحکام یا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ الا السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خاتم انبیاء بنی اسرائیل لکھا ہے۔اور اپنے تر باپ کے گھر میں خاتم الاولاد۔یں اپنی تحقیق میں بتا چکا ہوں کہ خاتم یا خاتم جب جمع کی طرف مضاف ہو تو اس کے حقیقی معنی تو یہ ہوں گے کہ یہ شخص اس گروہ کے تمام کمالات کا جامع ہے اور اس کی تاثیر اور فیوض سے اُس گروہ کے افراد جیسے افراد پیدا ہو سکتے ہیں۔ہاں اس گروہ کا محض آخری فرد یا اس گروہ کو ختم کرنے والا فرد محض مجازی معنی ہیں جن کا حقیقی معنوں کے ساتھ اجتماع محال ہے۔اس گروہ کی زہنیت اور اُس گروہ کا افضل فرد حقیقی معنوں کے تابع معنی اور لازمی معنی ہیں۔اور کبھی ایک محدود اور معین صورت میں آخری فرد اور ختم کرنے والا کے معنی بھی حقیقی معنوں کے ساتھ بطور لازم معنوں کے جمع ہو سکتے ہیں۔بشرطیکہ ان معنوں کے لزوم پر کوئی قرینہ یا نفق موجود ہو۔ہاں اُس گروہ کا محض آخری فرد یا اُس گروہ کو بالکل ختم کرنے والا یہ معنے محض مجازی ہیں جو حقیقی معنوں کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ تم امر ہے کہ حقیقت لغویہ کے ساتھ مجاز لغوی کا جمع ہونا محال ہے۔اور مجاز لغوی وہاں ہی مراد لیا جا سکتا ہے جہاں حقیقت تغویہ متحدر اور محال ہو۔5 تان خاتم النبین ۱۵