شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 208 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 208

۲۰۸ بندش والی مہر بپھلوں پر لگ سکتی ہے! ان حوالہ جات سے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ خاتم النبیین کے حقیقی معنی تو نبیوں کی مہر ہیں۔مگر اس شہر کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ آپ نے نبیوں کو بالکل بند کر دیا ہے یہ شہر کسی کے لئے نہیں کھلے گی۔مگر تعجب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے یہ لوگ پھر اس شہر کو کھول لیتے ہیں۔اور اس طرح ختم نبوت کی شہر کا جو ان کی نبوت مستقلہ پر لگی ہوئی ہے ٹوٹ جانا تسلیم کر لیتے ہیں۔مولوی محمد ادریس صاحب نے اپنی کتاب میں خاتم النبیین معنی نبیوں کی شہر کو اسی طرح بند کرنے والی قرار دیا ہے۔اب اگر یہ مہر اس طرح بند کر رہی ہے کہ ہو اس کے اندر آگئے وہ قیامت تک نہیں نکل سکتے تو پھر حضرت عیسی علیہ اسلام کا آنا محالی ماننا چاہیئے اور ساتھ ہی یہ بھی تسلی کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح نبی اللہ کی آمد کی جو خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح مسلم میں مروی ہے۔اور میں میں آپ نے کو چار دفعہ ایس سی کو نبی اللہ قرار دیا ہے اس سے بموجب حدیث صحیح بخاری امام مشکور امتی فردی مراد ہو سکتا ہے۔جو اتنی نبی کی حیثیت میں وقت کا امام ہوگا۔بندش کی مہر تو صرف ان نبیوں کے لئے تسلیم کی جاسکتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے اور جو ستنقل اور شارع نبی تھے۔کیونکہ بندش والی مہر خارج میں پائی گئی اشیاء پر لگتی ہے نہ کہ مقتدرہ اشیاء پر۔اگر بعد والا امتی نبی جو امت کا مسیح موعود ہے وہ بھی اس مہر کے اندر بند ہو چکا ہوتا تو پھر اُسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نسبتی اللہ کیوں قرار دیتے ؟