شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 202
- ۳۰۳ تیجتی ہے۔کیونکہ آپ نے اپنی نبوت کو ختم نہیں کیا۔پس اس کی تجلیات قیامت تک مختلف مظاہر میں حسب استعداد قابل متجلی ہو سکتی ہیں۔فتاوی پر علماء کی مہروں کا اثر علماء کی فتاوئی پر جو مہریں ثبت ہوتی ہیں اُن کے ذریعہ اُن فتوں کی تصدیق اُن کا جاری کرنا اور سند کرنا مقصود ہوتا ہے۔نہ اُن فتووں کا بند کرنا۔اس سے بھی یہ ظاہر ہے کہ مہر کی اصل حقیقت میں تاثیر کے معنوں کا بڑا دخل ہے۔پس کیا یہ عجیب بات نہیں کہ علماء کی مہریں تو نتاولی کو جاری کرتی ہیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کو نبوت کا بند کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔حالانکہ مفردات میں بند کر نا ختم کے مجازی معنے ہیں پیس چونکہ مہر کی تاثیر تصدیق کرنا اور ستند کر نا بھی ہے۔اس لئے خاتم النبین کے یہ معنے بھی ہیں کہ آنحضرت صلی الہ علیہ و آلہ وتم تمام نبیوں کے مصدق ہیں۔اور ان کی نبوت تیں آپ کی مہر نبوت سے مستند ہیں۔اور آئندہ بھی کوئی نبی کی لی آپ کی سند اور فیضان اور تصدیق کے بغیر ظاہر نہیں ہو سکتا۔سے حضرت مولانا روم اور خاتم النبیین کے معنی سرتاج صوفیاء حضرت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ اپنی مثنوی کی جلد شتم میں خاتم کے حقیقی معنی بایں طور بیان فرماتے ہیں - بهر این خاتم شدست او که بجود۔مثل او نے بود نے خواهند بود