شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 201 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 201

۲۰۱ اور اس کے لازمی معنے یہ ہوں گے کہ آپ نے تشریعی نبوت اور ستنقلہ نبوت کے سلسلہ کو ختم کر دیا ہے۔"تمام نبیوں کو ختم کر دیا ہے “ اس کے محض مجازی معنے ہونگے۔جو حقیقی معنوں کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔یہ معنے مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّبِينَ الآية اور حديث الا ان يكون نبي کے صریح خلاف ہیں۔نیز یہ معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کے تمام انبیاء پر بالذات فضیلت پر دال نہیں ہو سکتے اس لئے درست نہیں۔اگر اس جگہ تمام نبیوں کو ختم کیا مجازی معنے ہی مُراد لئے جائیں تو پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی امت محمدیہ میں نہیں آسکتے کیونکہ وہ تو سب نبیوں کے ساتھ ہی ختم ہو گئے۔اس دنیا میں اب اُن کا کوئی حصہ باقی نہ رہا۔اگر کچھ حصہ باقی ہو تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ختم نہیں کرسکے۔اس طرح تو ختم نبوت کے ران معنوں پر زرد پڑتی ہے کہ معاذہ اللہ دلیل میں ناقص رہی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے نبی تو ختم تھے ہی صرف ایک نبی بقول غیر احمدی علماء کے جو حضرت عیسی علیہ السلام ہیں باقی تھے۔مگر وہ آپ سے ختم نہ ہو سکے۔ہیں اس قرآت کے ختم کیا معنے بینک لو۔مگر یاد رکھو راس قرآت میں چونکہ ماضی کا صیغہ ہے اس لئے گزرے ہوئے انبیاء کو تو پورے طور پر ختم مانو۔ان کی شریعتوں کو بھی اور ان کی جسمانی حیات کو بھی پھر آپ کو سمجھ آسکتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود امتی نبی صرف اور صرف نا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض رسانی سے ہی مقام نبوت پانے والا ہے۔اور اس کی یہ نبوت آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی نبوت کا پر تو اور کس ہے۔جو دراصل آپ کی ہی نبوت کی ایک جدید پیرایہ میں