شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 162 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 162

۱۶۲ یعنی علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی ورثہ تو جاری ہے۔ہر روحانی عالم اپنے ظرف کے مطابق علوم روحانیہ اور کمالات محمدیہ میں آپ کا وارث ہوتا ہے۔حضرت مجدد الف ثانی " فرماتے ہیں کہ کمالات نبوت کا حصول پیر دی اور وراثت کے طور پہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی خاتمیت کے منافی نہیں ہے۔(مکتوبات جلد اول مکتوب ۳۵۱۷ ۴۳۳ ) امام راغب مفردات میں فرماتے ہیں :- يُسمى كُلُّ مَنْ كَانَ سَبَبًا فِي إِيجَادِ شَيْءٍ أَو إِصْلَاحِم او ظهور لا ابا وَلِذلِكَ سُمِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَبَا لِلْمُؤْمِنِينَ " یعنی ہر شخص جو کسی شئے کی ایجاد یا اصلاح یا ظہور کا سبب ہو وہ باپ کہلاتا ہے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابو المؤمنین ہیں۔اسی یعنی مومنوں کے موجد۔اُن کے ظہور کا باعث اور مصلح ہونے کی وجہ سے اُن کے باپ ہیں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ تو امت کے لئے بطور روحانی باپ ہونے کے مسلم ہے۔مولوی محمد اور میں صاحب کے معنوی باپ مولوی محمد قاسم صاحب تو خاتم النبیین کے معنے ابو الانبیاء بیان فرماتے ہیں۔مگر اُن کے یہ معنوی فرزند اُن کے اُلٹ راہ اختیار کر رہے ہیں۔چونکہ خاتم النبین کہ کہ آپ کو ابو الانبیاء قرار دیا گیا ہے۔اس لئے باپ کے معنے کے لحاظ سے آپ انبیاء کی ایجاد و ظہور کا بھی تا قیامت موجب ہوں گے۔کیونکہ آپ قیامت کے دن بھی ضرور ابو الانبیاء