شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 15 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 15

۱۵ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو ملائکہ کے ذریعہ بشارتیں ملنے کا وعدہ دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُم تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَا كُمْ فِي الحَياةِ الدُّنْيَا وَ نِي الأخرة رحم السجده ۴۶) یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اُس پر استقامت دکھائی تو ان پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ تم کوئی خوف نہ کرو۔اور نہ کوئی غم کھاؤ اور اس جنت کی بشارت پاؤ جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو۔ہم دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے مددگار ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ کے نیک لوگ علی قدیر مراتب مکالمہ الہیہ کی نعمت سے مشرف ہوتے رہیں گے۔حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :- هذا التَّنزِيلُ هُوَ النُّبُوَّةُ العَامَّةُ لَا بُوَةُ التَشْرِيمِ۔و فتوحات مکیہ جلد ۲ ۲۲۲۰ باب معرفة الاستقامة ) یعنی یہ ملائکہ کا کلام لانا تیوت عامہ ہی ہے۔نہ کہ تشریعی نبوت۔اس نبوت عامہ سے حصہ ہر سچے مومن استقامت دکھانے والے کو اس کے مرتبہ کے موافق حاصل ہوتا ہے۔جس کو یہ مرتبہ نبوت عامہ کا علی وجہ الکمال حاصل ہو اس کو خدا تعالے