شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 153
۱۵۳ کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سیکھاتے۔یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے۔یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے" پھر فرماتے ہیں :- ( الوصیت ما حاشیہ) ہم بار بار لکھ چکے ہیںکہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امرہے کہ ہمارے سیند و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعیت ہے۔اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے؟ ر چشمه موفته حاشیه (۳۲۴) (۴) خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے۔اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے " (چشمہ معرفت ۳۲ و ۳۲۵) (۵) نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالی کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شریف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شرعیت لادے۔کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائزہ نہیں جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اُس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم )