شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 139 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 139

اصالتا یعنی براه راست مقام نبوت پاتا ہے۔یہ تعریف نبوت علماء کے نزدیک نبوت کی عرفی حقیقت تھی اس لئے اس حقیقت کے پیش نظر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اعلان فرمایا کہ :- سُقيتُ نَبِيَّا مِنَ اللَّهِ عَلَى طَرِيقِ الْمَجَازِ لَا عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ فَلَا تَهِيجُ هُهُنَا غَيْرَةُ اللَّهِ وَلَا عَيْرَةٌ رَسُولِهِ فَإِني أَرَابي تَحْتَ جَنَاحَ النَّبِيِّ وَقَدَ فِي هذه تَحتَ الْأَقْدَامِ النَّبَوِيَّةِ " ر استفتاء ضمیمہ حقیقة الوحی مثا ) یعنی میرا نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاز کے طریق پر نبی رکھا گیا ہے نہ کہ حقیقت کے طریق پر۔پس میری نبوت سے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی غیرت نہیں بھڑکتی۔پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کے نیچے تربیت پا رہا ہوں۔اور میرا یہ قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نیچے ہے۔اس اعلان میں آپ نے نبوت کی اسی حقیقت کے حامل ہونے سے انکار کیا ہے جو عام علماء اور عوام الناس کے نزدیک نبوت ورسالت کی حقیقت ہے جس کے لئے یا تو جدید شریعت لانا یا بعض احکام شریعت کا منسوخ کرنا۔یا مستقل طور پر اور براہ راست مقام نبوت کا حامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔گر آپ کی مراد اپنی نبوت سے صرف یہ تھی کہ آپ کثریت مکالمه مخاطبہ الہتہ مشتمل بر امور غیبیہ کی نعمت سے مشرف ہیں اور یہ مرتبہ آپ کو شریعت محمدیت