شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 138
جوغیر تشریعی انبیاء ہوئے ہیں اُن کے متعلق فرمایا ہے قَفَّيْنَا مِنَ الْجِدِهِ بِالرُّسُلِ (سورہ بقرہ ع (۱) کہ ہم نے موسیٰ کے بعد پے در پے ریسول بھیجے اور انہی کو دوسری جگہ نبی قرار دے کر فرمایا :- >> إِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَة فِيهَا هُدًى وَ نُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا۔(سوره مائده ع ) مینی ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہے اس کے ذریعہ کئی نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے یہودیوں کے لیئے حکم تھے۔پھر قر آن مجید میں حضرت اسمعیل علی السلام کو رسُولاً نبيا قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ وہ ابراہیمی شریعت پر تھے۔اور حضرت ہارون کو بھی رسول کہا گیا ہے۔حالانکہ شریعت موسی علی السلام پر نازل ہوئی تھی۔یہ تحقیق علامہ اسی صاحب " روح المعانی کی ہے۔وہ لکھتے ہیں :۔إِنَّ الرَّسُولَ لا يَجِبُ أَن يَكُونَ صَاحِبَ شَرِيعَةٍ جَدِيدَةٍ فَإِنَّ اَولاد اِبْرَاهِيمَ كَانُوا عَلَى شَرِيعَتِهِ ر روح المعانى جلده منش ) یعنی بے شک رسول کیلئے صاحب شریعیت جدیدہ ہونا ضروری نہیں کیونکہ اولاد ابراہیم اپنے باپ ابراہیم کی ہی شریعیت پر تھی۔بہر حال یہ عقیدہ چونکہ اکثر علماء میں رائج تھا کہ نبی اور رسول یا تو شریعت جدیدہ لاتا ہے یا شریعت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرتا ہے۔یا