شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 131
۱۳۱ استنی نبوت ہوگی نہ کہ مستقل نبوت۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنا برونز کامل ہونے کی وجہ سے ہی حدیث میں نبی اللہ قرار دیا ہے۔دعوی میں تدریج کا شبہ بعض لوگ شبہ پیش کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی میں تدریج پائی جاتی ہے۔پہلے آپ اپنے آپ کو محدث کہتے رہے۔پھر نبی کہنا شروع کر دیا۔یہ بات شبہ پیدا کر تی ہے۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ اگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی میں تدریجی ترقی بھی سلیم کی جائے تو یہ ہر گنہ کسی شعبہ کا محل نہیں ہونی چاہیئے۔کیونکہ استی چونکہ پیروی کے واسطہ سے مدارج کمال حاصل کرتا ہے۔اس لئے اگر بالفرض وہ ولایت عامہ سے زمینہ برینہ ترقی کر کے امتی نبی کا کمال حاصل کرے تو یہ بات ہرگز قابل اعتراض نہیں کیونکہ حضرت مجدد الف ثانی نے کمالات نبوت کے حصول کے دو طریق بیان فرمائے ہیں۔اور دوسرا طریق یہ بیان فرمایا ہے کہ پہلے کمالات ولایت کو بطور ظلیت حاصل کر کے انسان ان کمالات ولایت کے توسط سے کمالات نبوت حاصل کرتا ہے۔اور مقام نبوت کو پاتا ہے۔وہ اس راستہ کو شاہ راہ اور حصول مدارج کے لئے قریب ترین راستہ قرار دیتے ہیں۔اور یہ فرماتے ہیں کہ اکثر انبیاء نے اسی طریق سے متمام نبوت حاصل کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں : " راه دیگر آن است که بتوسط حصول این کمالات ولایت وصول