شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 130
١٣٠ امام مہدی کا مرتبہ عظمیٰ امام مهدی علیا سلام کا مقام اور مرتبہ عبدالرزاق کاشانی شرح فصوص الحکم میں یہ قرار دیتے ہیں کہ : المُهْدِيُّ الَّذِي يَجِيءُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَإِنَّهُ يَكُونُ فِي الْاَحْكامِ الشَّرْعِيَّةِ تَابِعَا لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْمَعَارِفِ وَالْعِلْمِ وَ الْحَقِيقَةِ تَكونُ جَمِيعُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْلِيَاء تَابِعِينَ لَهُ كُلُهُمْ وَلَا يُنَاقِضُ مَا ذَكَرْنَاهُ لان بَاطِنَهُ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ د شرح فصوص الحکم مطبوعہ مصر ۵ ۵۲ ۵۳ ) (۵۳-۵۲ ینی مہدی جو آخری زمانہ میں آئے گا وہ احکام شرعیہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگا۔اور معارف اعلم اور حقیقت میں تمام انبیاء اور اولیاء کے سب اس کے تابع ہوں گے۔کیونکہ مہدی کا باطن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن ہوگا۔یعنی مہدی باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات رکھنے والا ہوگا۔اور آپ کا کامل قبل اور بروز ہو گا۔گویا مہدی عیسی کا بروز بھی ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی بروز کاریل ہے۔پس جب جہری اور بیج ایک امتی محض ثابت ہوا تو اس کی نبوست