شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 124
۱۳۴۷ قرار دیا ہے۔اور اسی بناء پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے نبی کے لفظ سے خطاب کیا ہے۔پیس شیخ اکبر فی الدین ابن عربی رحمتہ الہ علیہ کے نزدیک محدثین نبوست مطلقہ کے اصحاب جزر ہیں۔یعنی نبوت مطلقه یا نبوت الولایت انہیں جزوی طور پر حاصل ہوتی ہے۔شریعت کو نبوت مطلقہ پر وہ ایک امر عارض یعنی نبوت مطلقہ پر ایک زائد جز و غیر ذاتی قرار دیتے ہیں۔نبوت مطلقہ اُن کے نزدیک امور غیبیہ کے سوا اور کچھ نہیں۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں :- " لَيْسَتِ النَّبوَةُ بِأَمْرِ زَائِدِ عَلَى الْإِخْبَارِ الْإِلهِي۔کہ نبوت خدا سے غیب کی خبریں ملنے سے زیادہ کوئی امر نہیں۔ر فتوحات مکیه جلد ۲ صنام سوال ۱۸۸) الی بذر به کشف و الهام نازل ہوتے ہیں۔اور حضرت علی علیہ السلام کو انبیاء الاولياء والی نبوت بالاختصاص بصورت نبوت مطلقہ حاصل ہو گی جو المبشرات والی نبوت ہی ہے۔اور اُن پر دی نازل ہونے کے متعلق روح المعانی جلد ۵ ۶۵۰ میں ہے کہ ان پر مینی مسلم کی حدیث کے مطابق رع چی نازل ہو گی۔چنانچہ لکھا ہے :- نعم يوحَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَى حَقِيقِي كَمَا فِي حَدِيثِ مُسْلِمٍ بلکہ علامہ ابن حجر الہیمی تو صاف لکھتے ہیں۔ذلك الولى عَلَى لِسَانِ جنونِكَ إِذْ هُوَ السَّفِيرُ