شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 123
۱۲۳ دغه اپنی نبوت تامہ کاملہ کے زمانہ کے لحاظ سے قرار دیا ہے۔نبوت تامہ کا ملہ محمدیہ کا زمانہ ۴۳ سال ہے۔اور اس کے پچھیالیس ہفتے بنائیں تو چھیالیسواں حصہ کچھ ماہ بنتے ہیں۔یہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا رویا صالحہ اور مکاشفات صفحه مشتمل بر امور غیبیہ کثیرہ والی وحی کا زمانہ ہے۔اور یہ نبوت مطلقہ کا ہی زمانہ ہے جس کے بعد آپ پر شریعت نازل ہونی شروع ہوئی۔آپ کی رویا صالحہ کو صحیح بخاری کی ایک حدیث میں دی ہی قرار دیا گیا ہے۔سوجو نبوت آپ کو شریعیت نازل ہونے سے پہلے اس چھ ماہ کے عرصہ میں حاصل تھی وہ نبوت مطلقہ ہر حال تھی۔اور نبوت مطلقہ آپؐ کے بعد بزرگان اُمت کے نزدیک جاری ہے اور تشریعی نبوت منقطع پس یہ حدیث لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُشِرَاتُ بتا رہی ہے کہ باب نبوت من كل الوجوہ بند نہیں بلکہ ایک قسم کی نبوت کے لئے جو المبشرات کی حامل ہوتی ہے یہ دروازہ کھلا ہے۔اس میں سے علی قدر مراتب مومنین اور اولیاء اللہ اور محدثین و مجاز دین است کو بھی حصہ ملتا ہے اور اسلام کے مجدد اعظم مسیح موعود و مہدی معہود کو یہ ثبوت على وجیہ الکمال حاصل ہوئی ہے۔اسی نبوت کے کامل طور پر حاصل کرنے کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو نبی الله عہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ نے فتوحات کیہ جلد را ما سوال ۲۵ میں اسکی یہی وجہ تحریر کی ہے۔اور پھر الیواقیت والجواہر جلد ۲ مایا میں امام شعرانی علیہ رحمت نے بھی صہ امام الرحمہ رویائے صالحہ کے نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہونے کی یہی وجہ تحریر فرمائی ہے۔منہ۔