شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 113 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 113

نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے۔اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا۔تاکہ آنحضرت صلی اللہ عیہ وسلم کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی۔کیونکہ اگر دوسرے صلحا جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمه و مخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ ہی کہلاتے کے سنتھی ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی پیشگوئی میں ایک رشتہ واقع ہو جاتا۔اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پلانے سے روک دیا۔تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا۔وہ پیشگوئی پوری ہو جائے یا (حقیقۃ الوحی م۳۹ ) حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اس جگہ اپنے اختصاص بالنبوة کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں۔ایک وجہ یہ ہے کہ معاملہ مخاطبہ الہی مشتمل بر امور غیبیہ کی نعمت کو علی وجہ الکمال اُمت میں سے صرف آپ نے پایا ہے۔دوسرے صلحاء امت میں اس نعمت کے پانے میں مصلحت انہی کے ماتحت بزودی کمی رہی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ پیشگوئی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسیح موعود علی السلام کو نبی اللہ کے نام سے ذکر فرمایا ہے نہ کسی اور امتی کو۔أشياء الاولیاء و محدثین ہی نہیں بلکہ غیر شرعی انبیاء بھی ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محی الدین ابن عربی نے انبیاء الاولیاء صرف محدثین