شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 112 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 112

۱۱۲ ترجمہ:۔اس امر کے اول میں ایک نبی ہے۔اور وہ آدم علیہ السلام ہیں اور اس کے آخر میں ایک بنی ہے اور وہ عیسی علیہ السلام ہیں۔وہ بالا ختصاص نبی ہوں گے۔پس قیامت کے دن اُن کے دو حشر ہوں گے۔ایک حشر ہم امتیوں کے ساتھ اور دوسرا حشر رسولوں اور ابنیاء کے ساتھ۔اس اختصاص بالنبوة سے مراد اُن کی یہی ہوسکتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پنی نبوت کا مامور ہونے کی وجہ سے اعلان کرینگے اور دوسرے امتی انبیاء الاولیاء کو مامور نہ ہونے کی وجہ سے اعلان کا حق نہیں دیا گیا۔گو مرتبہ نبوت اُن کو حاصل ہے۔ہیں اِن دوسرے انبیاء الاولیاء میں یہ ماموریت والی تیز و کم ہوگی مسیح موعود کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اُسے خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری شریف کی حدیث میں ا ما مكم منکر کہا کہ انتی قرار دیا ہے۔اور مسلم شریف کی حدیث کے مطابق چار دفعہ نبی اللہ بھی قرار دیا ہے۔اور پھر خدا تعالے نے بھی آپ کو نبی کے لقب سے مشرف فرمایا ہے۔بانی سلسلہ احمدی کے نزدیک اپنی خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلاه والسلام بانی سلسلہ احمدیہ اپنے اس اختصاص بالنبوة کو یوں بیان فرماتے ہیں : غرض اِس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے ہیں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا رشان خاتم النبيين عل )