شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 11
ہستی کے موجود ہونے کا ایک مشین ثبوت ہوتا ہے۔اور اس روشن ثبوت کی ضرورت ہر زمانہ کے لوگوں کو رہی ہے۔لہذا امت محمدیہ ہی ہر زمانہ میں اس کا ثبوت پایا جانا چاہیئے بالخصوص اس مادہ پرستی کے زمانہ ہیں تو اس نعمت کے ملنے کی اشد ضرورت تھی۔اکابر علماء اہل سنت نے مکالمہ مخاطبہ الہیہ مکالمہ اکابر علما اور مال ما این باری کی تم کو امت محمدیه یں باقی مانا ہے۔اور اُسے ایک سم نبوت کی بھی قرار دیا ہے کیونکہ رسول مقبول صلی الہ علیہ و آلہ وسلم نے خود فرما دیا ہوا ہے۔لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُشِرَاتُ صحیح بخارى كتاب التعبير کہ نبوت میں سے الْمُبَشِّرات (اخبار غیبیہ کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے المبشرات یعنی اخبار غیبیہ کو نبوت میں سے باقی قرار دیا ہے۔اس حدیث میں لفظ النبوة سے مراد نبوت مطلقہ ہوسکتی ہے یا نبوت تاہیہ کالم محمدیہ جو تمام کمالات ونی کی حامل اور ایک جامع اور اکمل شریعت پر قمشتمل ہے۔گویا اس حدیث میں امت محمدیہ کے لئے صرف المبشرات کی تقیم نبوت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے باقی قرار دیا ہے۔یہ المبشرات وہ اخبار غیبیہ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و علم کے امتی کو آپ کی شریعت کا ملہ کی پیروی اور آپ کے روحانی فیض کی برکت سے حاصل ہوتی ہیں۔مبشرات کا ایک شیر اور مند به مقداریں بلنہی جبکہ وہ بشرات عظیم الشان اخبار غیبیہ مشتمل ہوں لغت عربی کے لحاظ سے نبوت کہلاتا ہے۔چونکہ نبوة نَبَا سے ماخوذ ہے جس کے معنی عظیم الشان خبر ہیں۔اس لئے عظیم الشان اخبار غیبیہ