شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 102 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 102

ایسی پیدا نہیں کی جو اُن سے زیادہ میرے نزدیک تکریم ہو۔میں نے اُن کا نام عرش پر اپنے نام کے ساتھ آسمان وزمین اور شمس و قمر پیدا کرنے سے میں لاکھ برس پہلے لکھا ہے قسم ہے اپنے عز وجلال کی کہ جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ محمد اور اُن کی امت داخل نہ ہو جائیں۔(پھر اُمت کے فضائل کے بعد یہ ہے کہ ) موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا۔اے رب! مجھ کو اس اُمت کا نبی بنا دیجئے۔ارشاد ہوا۔اس اُمت کا نبی اس میں سے ہو گا۔عرض کیا۔مجھے کو ان (محمد) کی امت میں سے بنا دیجئے۔ارشاد ہوا۔تم پہلے ہو گئے۔وہ پیچھے ہوں گے۔البتہ تم کو اور اُن کو دارالجلال (جنت) میں جمع کر دوں گا “ اس حدیث نبوی سے ظاہر ہے کہ سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد صلے لی اللہ علیہ وسلم کی امت کے فضائل معلوم ہونے پر حضرت موسی علیہ اسلام نے پہلے یہ خواہش کی کہ مجھے اس اُمت کا نبی بنا دیا جائے۔اس پر خدا تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ اس امت کا نبی اس امت میں سے ہی ہوگا۔پھر انہوں نے خالی امتی بنایا جانے کی خواہش کی تو وہ اس بنا پر منظور نہ ہوئی کہ حضرت موسی علیہ السلام آنحضرت سے پہلے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بعد ہوں گے۔اس حدیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ میں طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی امت کا نبی نہیں بن سکتے۔ویسے ہی حضرت علیمی علیہ السلام بھی اس امت کا نبی نہیں بن سکتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام