شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 101
ہیں۔اور شیر یہ کے لئے مشتبہ کا غیر ہونا ضروری ہے۔اور عین ہوتا اند روئے نفق استخلاف (آیت ہذا محال ہے۔پس امت محمدیہ کے مسیح موعود کا پہلے میچ کا مشتبہ اور مشیل ہونا ضروری ہدا حضرت عیسی علیہ السلام امت محمدیہ میں خلیفہ نہیں ہو سکتے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔علیسی کجا است تا بند یا بمنبرم اول یعنی حضرت علی علیہ السلام مسیح موعود کے منبر پر جو خلافت محمدیہ کا منبر ہے قدم نہیں رکھ سکتے۔از روئے حدیث یا سوا اس آیت قرآنیہ کے حدیث نبوی سے بھی ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانہ کا کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقت یں نہ نبی ہو کہ ظاہر ہوسکتا ہے نہ خالی امتی ہو کہ۔چنانچہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی اپنی کتاب نشر الطیب فی ذکر الحبیب کے صفحہ ۲۶۱ و ۲۶۲ پر ایک حدیث نبوی حلیہ ابونعیم اور الرحمۃ المہدا سے لیکر اس کا ترجمہ ان الفاظ میں درج کرتے ہیں کہ۔اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے (ایک بار اپنے کلام میں فرمایا کہ بنی اسرائیل کو مطلع کر دو کہ جو شخص مجھ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہوگا تو میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا خواہ کوئی ہو۔موسی علیہ اسلام نے عرض کیا۔احمد کون ہیں ؟ ارشاد ہوا۔اے موسی باقسم ہے مجھے اپنے عز و جلال کی ہیں نے کوئی مخلوق عہ یہی حدیث ترجمان استنه (مجموعہ احادیث بزبان اردو) کے ۲۲ میں نسیم الریاض کی شرح سے درج کی گئی ہے مولوی بدر عالم صاب حاشیہ پر لکھتے ہیں:۔قضا می فرماتے ہیں رواه ابو نعيم في الحليه و درد معناه على طرق كثيرة کما فی الخصائص (نسیم الریاض جلد ۲) پس اس حدیث کو کئی طرق سے قوت حاصل ہے۔