سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 56
56 ۱۷۔جون کی شام صاحبانِ بصارت و بصیرت کیلئے اتحاد بین الاقوام کا بنیادی پتھر تھی۔ہندو اور سکھ مسلمانوں کے پیارے نبی کے اخلاق بیان کر کے ان کو ایک عظیم الشان ہستی اور ایک کامل انسان ثابت کر رہے تھے۔۔۔( بحوالہ الفضل ۱۰۔جولائی ۱۹۲۸ء) اور بہت سے اخبارات نے جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں ان جلسوں کی تعریف وافادیت کے متعلق اپنے اداریوں میں بڑے عمدہ تبصرے کئے۔اخبار مخبر اودھ اخبار سلطان کلکته، اردو اخبار ناگپور، اخبار ہمدم لکھنو، وکیل امرت سر، حقیقت، منادی ، پیشوا، حق ، تو حید کراچی وغیرہ۔ان با برکت جلسوں سے ایک روح پرور لہر پیدا ہوئی جو مسلسل عاشقانِ رسول کے قلوب کی تسکین و بشاشت اور از دیا ایمان کا باعث بنے لگی۔دوسرے سال کے جلسوں کی کامیابی پر الفضل رقمطراز ہے:۔اس سال بھی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ کی یہ مبارک تحریک کہ ۲ جون کو سارے ہندوستان میں جلسے منعقد کر کے سروردو عالم صلی الشمایہ اور مسلم کی پاکیزہ سیرت پر لیکچر دیے جائیں گے۔نہایت شاندار طور پر کامیاب ہوئی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ اس وقت تک جو اطلا میں پہنچ چکی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جلسے نہایت کامیاب ہوئے۔مسلم و غیر مسلم معززین بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم معززین نے بھی رسول کریم صلی الشمایہ اورمسلم کی سیرت پر تقریریں کیں“ الفضل ۷۔جون ۱۹۲۹ ء صفحہ۱) ان جلسوں کی کامیابی کا یہ بھی ایک نمایاں رُخ ہے کہ حضور کی سیرت مقدسہ کا علم عام ہونے سے غیر مسلموں کے حملوں کا نہ صرف بہت حد تک سد باب ہو گیا بلکہ بہت سے ایسے غیر مسلم اہلِ قلم ہندوستان و بیرون ہندوستان میں سامنے آئے جنہوں نے نہایت شاندار الفاظ میں حضور صل اللم و المسلم کی سیرت پر تقریر وتحریر کے ذریعہ اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔رواداری اور افہام و تفہیم کی فضاء کو زیادہ بہتر بنانے کے لئے حضرت فضل عمر نے یوم پیشوایان مذاہب“ منانے کا بھی اعلان فرمایا۔ان جلسوں میں مختلف مذاہب کے راہنماؤں کے حالات بیان کئے جاتے تھے۔تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور