سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 55 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 55

55 اس کا رنامہ کو ہمیشہ زندہ رہنے والا کارنامہ قرار دیتے ہوئے تحریر کیا: ”ہندوستان میں یہ تاریخ ہمیشہ زندہ رہے گی اس لئے کہ اس تاریخ میں اعلیٰ حضرت آقائے دو جہان سردار کون و مکاں محمد رسول اللہ صلعم کا ذکر خیر کسی نہ کسی پیرایہ میں مسلمانوں کے ہر فرقہ نے کیا اور ہر شہر میں یہ کوشش کی گئی کہ اول درجے پر ہمارا شہر رہے۔۔۔۔۔جن اصحاب نے اس موقع پر تفریق وفتنہ پردازی کیلئے پوسٹر لکھے اور تقریریں لکھ کر ہمارے پاس بھیجیں وہ بہت احمق ہیں جو ہمارے عقیدہ سے واقف نہیں۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص لا الہ اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ ناجی ہے۔بہر حال ۱۷۔جون کو جلسے کی کامیابی پر ہم امام جماعت احمد یہ جناب مرزا محمود احمد صاحب کو مبارکباد دیتے ہیں۔اگر شیعہ وسنی و احمدی اسی طرح سال بھر میں دو چار مرتبہ ایک جگہ جمع ہو جایا کریں گے تو پھر کوئی قوت اسلام کا مقابلہ اس ملک میں نہیں کر سکتی ( مشرق گورکھ پور ۲۱۔جون ۱۹۲۸ ء بحوالہ الفضل ۲۹۔جون ۱۹۲۸ ، صفحہ ۱۶) اخبار ”کشمیری راولپنڈی نے ۱۷۔جون کے جلسوں کو اتحاد بین الاقوام کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہوئے لکھا: - مرزا بشیر الدین محمود احمد ( جماعت قادیان کے خلیفة المسیح) کی تجویز کہ ۱۷۔جون کو آنحضرت صلی الہی اور مسلم کی پاک سیرت پر ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں لیکچر اور وعظ کئے جائیں۔باوجود اختلافات عقائد کے نہ صرف مسلمانوں میں مقبول ہوئی بلکہ بے تعصب ، امن پسند صلح جو غیر مسلم احباب نے ۱۷۔جون کے جلسوں میں عملی طور پر حصہ لے کر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔۱۷۔جون کی شام کیسی مبارک شام تھی کہ ہندوستان کے ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر بیک وقت و بیک ساعت ہمارے برگزیدہ رسول کی حیاتِ اقدس، ان کی عظمت ،ان کے احسانات واخلاق اور ان کی سبق آموز تعلیم ہند و مسلمان اور سکھ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔اگر اس قسم کے لیکچروں کا سلسلہ برابر جاری رکھا جائے تو مذہبی تنازعات اور فسادات کا فوراً انسداد ہو جائے۔