سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 625 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 625

562 پر نظر پڑتے ہی جو کیفیت ہوئی اس کا ایمان افروز تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ایک سفر میں ہم سندھ سے واپس قادیان آ رہے تھے تو لودھراں سے سٹیشن پر ملتان کے ہندور کیس کی نظر حضور پر پڑ گئی۔وہ بھی اسی ٹرین میں سفر کر رہا تھا، اس نے دیکھتے ہی ملک عمر علی صاحب مرحوم سے جن کا وہ واقف تھا بمنت درخواست کی کہ مجھے حضرت صاحب سے ملوا دیں۔چنانچہ ملک صاحب نے جو حضور کے ہمراہیوں میں حضور کے کمپارٹمنٹ میں ہی سفر کر رہے تھے ، حضور سے اجازت لے کر اس رئیس کو جس کا نام کلیان داس تھا ملاقات کے لئے حضور کے کمپارٹمنٹ میں بلا لیا۔ٹرین سٹیشن سے روانہ ہوگئی اور وہ ہند و حضور کی برتھ کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا رہا۔حضور نے کہا فرما ئیں تو دیکھا گیا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور روتے روتے ہچکی سی بندھ گئی۔یہ کیفیت کچھ دیر تک جاری رہی اس کے بعد رئیس مذکور نے اپنا طویل قصہ یوں بیان کیا کہ بہت عرصہ ہوا میں بغداد اور کربلا وغیرہ میں قبروں کی زیارت پر گیا مگر دل کو تسلی حاصل نہ ہوئی لیکن جب میں حضرت سلمان فارسی کے روضہ پر گیا تو میرے دل کو تسلی اور سرور حاصل ہوا۔اور میری حالت نیم بیہوش کی سی ہوگئی۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نورانی چہرے والے بزرگ سامنے آ رہے ہیں ان کے ساتھ چار اصحاب اور ہیں، ان بزرگ کو دیکھ کر میرا دل بیحد خوشی اور سرور سے بھر گیا۔بیداری کے بعد میرا دل لذت سے بھرا رہا اور جب بھی تصور غالب آتا تو وہی بزرگ مع چار اصحاب کے سامنے آجاتے۔اب میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں اس بزرگ کی تلاش کر کے اس کی زیارت کروں۔چنانچہ میں ان علاقوں میں اور پھر ہندوستان آ کر مختلف شہروں میں گھوما پھرا مگر میری مراد پوری نہ ہوئی۔اس واقعہ پر پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے کہ آج جب میری نظر حضور والا پر پڑی تو میرے سامنے وہی چہرہ آ گیا جو حضرت سلمان فارسی کے مقبرہ پر کشف میں نظر آیا تھا۔تب ملک عمر علی صاحب سے بمنت آپ کی ملاقات کے لئے کہا اور میری مراد پوری ہوگئی۔یہ عجیب بات ہے کہ حضور کے ہمراہ اس وقت چار ہی اصحاب اس کمپارٹمنٹ میں تھے۔