سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 549 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 549

491 اثناء میں اندرون خانہ سے حضور کے لئے چوزہ کی یخنی لائی گئی جو ایک پیالی میں تھی حضور نے خادمہ کو پیالی مجھے دیدینے کا ارشاد فرمایا۔میں نے ارشاد کی تعمیل میں لے لی اور حضور کے پیش کی تو فرمایا۔آپ پئیں۔میں سخت حیران ہو گیا کہ یخنی آئی تو حضور کے لئے ہے جو ضعف کا علاج ہے۔میں کس طرح پیؤں مگر ارشاد کی تعمیل بھی ضروری تھی۔میں نے ایک پیچی بھر کر اس طرح پی لی کہ پیچی ہونٹوں کو نہ چھوئے اور پیالی حضور کے پیش کر دی۔حضور نے فرمایا آپ پیئیں۔تو میں نے پھر ایک پیچی لے کر پیالی پیش کر دی۔تب حضور نے فرمایا اور پئیں۔چنانچہ میں نے تیسری چی لی اور پیالی پیش کر دی۔تب حضور نے وہ یخنی خود پی لی اور فرمایا کہ میں نے سنتِ نبوی پر عمل کیا ہے۔پھر مجھے سمجھ آیا کہ حضور نے کیوں مجھے یخنی پینے کے لئے فرمایا تھا۔حالانکہ وہ آئی حضور کے لئے تھی۔میرے دل میں اپنے آپ محسن کا شکر پیدا ہوا اور اب تک شکر کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل و رحم سے مجھے اس سے بچالیا کہ حضور کے پہلے ارشاد پر پیالی منہ کو لگا کر تمام یخنی پی جاتا۔یہ آداب ایازی کی پہلی بجا آوری تھی۔میری رخصت صرف دو روز کی تھی اس بناء پر میں چوبیس گھنٹے قادیان میں ٹھہر سکتا تھا۔مگر حضور کی حالت تقاضا کر رہی تھی کہ میں حضور کی حاضری سے ہرگز جدا نہ ہوں پس میں نے بغیر کسی کو اپنی حاصل کردہ رخصت کا بتائے ایک ہفتہ کی رخصت کی درخواست از خود بھیج دی باوجودیکہ میں جانتا تھا کہ یہ درخواست سول سرجن کے لئے بہت تکلیف دہ ہوگی کیونکہ ان دنوں کے انفلوئنزا کے غضبناک حملہ کی وجہ سے جو قریباً تمام دنیا پر حاوی تھا کسی ڈاکٹر کو بھی تھوڑی سے تھوڑی رخصت ملنا محال تھی۔چنانچہ درخواست کی منظوری کی اطلاع کی بجائے مجھے سخت قسم کا نوٹس میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے آیا اور سول سرجن نے تو کمال کیا کہ وہ میرے مکان پر خود پہنچا اور میرے بڑے بھائی صاحب حضرت محمد یوسف کو فوری طور پر قادیان جانے اور عاجز راقم کو واپس لانے کے لئے مجبور کیا۔چنانچہ میرے قادیان پہنچنے کے چوتھے پانچویں روز بھائی صاحب قادیان پہنچ گئے اور مجھے واپس پٹیالہ جانے کے لئے کہا۔میں نے ان سے عرض