سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 548 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 548

490 میں نے ایک لمبی عمر انسانوں میں گزاری ہے اور بیشمار انسانوں سے ملا ہوں۔میں نے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں دیکھا جس نے یہ کہا ہو کہ میں نے فلاں کو ظلم کرتے دیکھا تو میرے دل میں اس کی بے حد محبت پیدا ہو گئی مگر ایسے سینکڑوں اور ہزاروں انسان دیکھے ہیں جنہوں نے کسی کو مار پڑتی دیکھی تو با وجود کسی قسم کا تعلق نہ ہونے کے اس کے متعلق ہمدردی پیدا ہوگئی۔پس دنیا میں مظلوم ہی محبوب ہو سکتا ہے۔ظالم کبھی محبوب نہیں بن سکتا اور نہ اس سے کسی کو ہمدردی اور محبت ہو سکتی ہے۔جب ہر شخص یہ بات جانتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ ظالم بننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور مظلوم بننا پسند نہیں کرتے۔“ الفضل ۲۳ مئی ۱۹۴۶ء صفحه ۲) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کو ایک لمبا عرصہ حضور کے معالج خاص اور معتمد علیہ ساتھی اور رفیق ہونے کی قابلِ صد رشک سعادت حاصل رہی۔حضور کی پاکیزہ سیرت کے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والی حضرت ڈاکٹر صاحب کی روایت ملاحظہ ہو۔یه سراسر فضل و احسان ہے کہ میں آیا پسند وو ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار جب مہلک قسم کا انفلوئنزا پھیلا ہوا تھا تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی انفلوئنزا کے سخت حملہ کے شکار ہو گئے اور موجودہ انتظام علاج معالجہ کے علاوہ ایک دو اور ڈاکٹروں کی ضرورت پیش آگئی۔چنانچہ حضور کے ارشاد پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی جانب سے دو تار روانہ کئے گئے۔ایک حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کو پانی پت میں اور دوسرا اس ناچیز ڈاکٹر حشمت اللہ کو پٹیالہ بھیجا گیا۔چنانچہ یہ عاجز تار ملنے پر رخصت لے کر امرتسر بٹالہ جانے والی سب سے پہلی گاڑی پر سوار ہو گیا اور اگلے روز قادیان پہنچ گیا۔حضرت میر صاحب بھی اس سے ایک دن بعد پہنچ گئے۔قادیان پہنچ کر جب میں نے حضور کا طبی معائنہ کیا اور یہ اظہار کیا کہ حضور کے پھیپھڑے صاف ہیں اور دل کی حالت بہت اچھی ہے اور دل خدا کے فضل سے با قاعدہ ہے تو اس وقت حضور کو بہت تسلی ہوئی اور چہرہ سے طمانیت اور شگفتگی ظاہر ہونے لگی۔اسی