سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 45 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 45

45 لکھوا دیں کہ اگر ہائی کورٹ کے جوں کے نزدیک کنور دلیپ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ سلم کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے بیتار ہوں“ (الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء صفحہ ۳) رسالہ کے پرنٹر و پبلشر مولوی نورالحق صاحب کو بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ اس مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کر دیں تو آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو گی مگر اسلامی غیرت کے پیش نظر انہوں نے بھی مدیر کے خیالات سے مکمل ہم آہنگی کا اظہار کیا جس پر عدالت کی طرف سے دونوں کو سزا ہو گئی۔حضور نے ان کے اس مؤمنانہ اور غیرت مندانہ طریق کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : - برادران! آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے دو عزیز بھائی رسول کریم صلی اللہ یہ آلہ سلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کھڑے ہونے کی وجہ سے جیل خانہ بھیج دیئے گئے ہیں یہ اور بات ہے کہ انہوں نے ایک ایسے فعل کا ارتکاب کیا جو عدالت عالیہ کے ججوں کی نظروں میں ملک کے قانون کے خلاف تھا لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا اور شائع کیا وہ ہر ایک مسلمان کے بچے جذبات اور حقیقی خیالات کا آئینہ دار ہے۔ہر ایک سچے مسلمان کا فرض اولین ہے کہ وہ پیغمبر پاک صلی المیہ و سلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرے اس لئے میں اپنی جماعت کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ میری جماعت کا ہر ایک متنفس عزت و ناموس پیغمبر صلی اللہادی اور مسلم کی حفاظت کے لئے ہر وہ کام کرنے کے لئے تیار ہے جو اس کے مقدور میں اور شرع اسلام کے مطابق ہوگا۔اگر ہم آج اس مسئلہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ ہو جائیں گے تو کبھی کسی اور موقع پر ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔اس وقت میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ لاہور جیل کی دیواروں سے سبق حاصل کریں اگر ایک احمدی اور ایک دوسرا مسلمان اسلام کی عزت و ناموس کے لئے اکٹھے جیل خانوں میں جا سکتے ہیں تو کیا ہم اس پاک اور