سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 544 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 544

486 ہیں، رات کا وقت ہے اور رات بھی خاصی گذر چکی ہے مجھے لوگ کہتے ہیں کل رات آپ کم سوئے تھے اب سو جائے مگر عدن قریب آ رہا ہے اور جہاز وہاں تھوڑی دیر ٹھہرے گا اگر میں اس وقت اپنا قلم رکھ دیتا ہوں تو پھر مجھے عدن کے بعد ہی کچھ لکھنے کا موقع ملے گا اس لئے میں ان دوستوں کی نصیحت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بھی کہتا ہوں کہ خط نصف ملاقات ہوتی ہے میں خدا کی مشیت کے ماتحت اپنے دوستوں کی پوری ملاقات سے تو ایک وقت تک محروم ہوں پس مجھے آدھی ملاقات کا تو لطف اُٹھانے دو۔مجھے چھوڑو کہ میں خیالات و افکار کے پر لگا کر کاغذ کی ناؤ پر سوار ہو کر اس مقدس سرزمین میں پہنچوں جس سے میرا جسم بنا ہے اور جس میں میرا ہادی اور رہنما مدفون ہے اور جہاں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت دوستوں کی جماعت رہتی ہے ہاں پیشتر اس کے کہ ہندوستان کی ڈاک کا وقت نکل جائے مجھے اپنے دوستوں کے نام ایک خط لکھنے دو تا میری آدھی ملاقات سے وہ مسرور ہوں اور میرے خیالات تھوڑی دیر کے لئے خالص اسی سرزمین کی طرف پرواز کر کے مجھے دیار محبوب سے قریب کر دیں۔لوگوں کو آرام کرنے دو، کھیلنے دو، شراب پینے دو، میری کھیل اپنے آقا کی خدمت ہے اور میری شراب اپنے مالک کی محبت ہے اور میرا آرام اپنے دوستوں کا قرب ہے خواہ خیال سے ہی کیوں نہ ہو۔کہتے ہیں کہ کسی چیز کی قدر اس کے کھوئے جانے سے ہی ہوتی ہے۔میں نے اس سفر میں یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔وہ دوست جو پہلے اس خیال کے اثر کے نیچے کہ ادھر میں ولایت گیا اور اُدھر یورپ فتح ہوا اصرار کر رہے تھے کہ ضرور میں ولایت جاؤں اور اس فتح کے دن کو ان کے قریب کر دوں۔جس دن کہ میں روانہ ہو رہا تھا ماہی بے آب کی طرح بے تاب ہو رہے تھے اور کئی افسوس کر رہے تھے کہ ہم نے جانے کا مشورہ کیوں دیا۔میں بھی جس نے باوجود اس امر کے علم کے کہ موسم سخت ہے اور طوفان کے دن ہیں ارادہ کر لیا تھا کہ اس موقع پر ضرور مغرب کا سفر کروں اور اسلام کی اشاعت کی سکیم تجویز