سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 543
485 دوسری طرف حضور کی جو کیفیت تھی وہ تو اس سے بھی بڑھ کر تھی۔حضور کا مندرجہ ذیل مکتوب اور اس پر مدیر صاحب الفضل کا ابتدائیہ اس ایمان افروز حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے۔ادارتی نوٹ: - حضور نے یہ مختصر خط جو رات کی نہایت گہری تاریکی میں اور سمندر کی متلاطم موجوں پر بیٹھ کر اپنے خدام کی طرف لکھا ہے سمندر سے بھی زیادہ پُر جوش جذبات قلب کی لہریں اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کے ایک ایک لفظ سے محبت اور الفت کی اتنی اتنی بڑی موج اٹھتی ہے جو مخاطبین کو نہایت عمدگی سے اپنے اندر چھپا لینے کے لئے کافی ہے۔اس محبت ، اس اُلفت، اس جذب، اس اشتیاق پر جو فوارے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا ہے جماعت احمدیہ جس قدر بھی تشکر و اطمینان کا اظہار کرے کم ہے اس کے بدلہ میں ہماری طرف سے کچھ پیش ہونا تو الگ رہا یہ خیال بھی نہیں آ سکتا کہ ہم کچھ پیش بھی کر سکتے ہیں ہاں خدا تعالیٰ کے حضور نہایت خشوع و خضوع سے یہ عرض کر سکتے ہیں کہ جس طرح اُس نے اپنے فضل و کرم سے اس قدر محبت کرنے والا ، اس قدر جدائی کا صدمہ محسوس کرنے والا اس قدر پیار اور اُلفت رکھنے والا ہادی اور امام عطا فرمایا ہے اسی طرح اپنے ہی کرم سے اس سفر میں اس کا محافظ اور نگہبان ہو۔اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ علی الصباح که مردم کاروبار روند بلاکشان محبت کوئے یار روند آج جہاز عدن کے قریب ہو رہا ہے، صبح ۴ بجے خشکی پر جہاز لگے گا، طوفان کے علاقہ سے جہاز خدا کے فضل سے نکل آیا ہے اور اب ہموار پانیوں میں چل رہا ہے۔مسافر جو کئی دنوں سے کمروں میں بند تھے اب باہر نکل کر سیر کر رہے ہیں۔اور خوشگوار ہوا اور عمدہ موسم کے لطف اٹھا رہے ہیں۔کچھ تو تاش میں مشغول ہیں جس کے ساتھ جوئے کا شغل بھی ہے، کچھ شراب کے گلاس اُڑا رہے ہیں، کچھ صحن میں بنچوں پر لاتیں پھیلا کر ہوا کھا رہے ہیں، کئی سو بھی گئے