سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 526 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 526

468 جنکے والدین اور بھائی احمدی تھے ) اپنی والدہ صاحبہ کا جنازہ لے کر قادیان آئے تو حضور نے مہمان خانے میں جنازہ پڑھایا اور خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ حضور کی طرف سے بہشتی مقبرہ ساتھ جاؤں۔چنانچہ خاکسار نے ایسا ہی کیا پیارے امام کو اپنی جماعت سے باپ اور بیٹے کی باہم روایتی محبت سے زیادہ پیار ہے آپ فرماتے ہیں:۔میں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لئے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے، ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔پھر میں اپنے دل کی محبت پر انبیاء کی محبت کو قیاس کرتا ہوں جیسے ہم جگنو کی چمک پر سورج کو قیاس کر سکتے ہیں تو میں ان کی محبت اور اخلاص کو حد سے بڑھا ہوا پاتا ہوں۔“ 66 (الفضل ۴۔اپریل ۱۹۲۴ء صفحہ ۷ ) بعض مخلص احباب کی طرف سے از خود ذمہ داری لے کر انہیں ثواب میں شامل کرتے۔بعض کام بھی از خود ہی کروا دیتے مکرم مولانا نذیر احمد مبشر صاحب لکھتے ہیں :- " حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے احسانوں میں سے ایک احسان خاکسار پر یہ بھی ہے کہ میرے ایک خانگی معاملہ میں حضرت صاحب نے مجھے بتلائے بغیر خود ہی ذمہ داری لے کر اس معاملہ کو سلجھا دیا اسی طرح ڈاکٹر میجر شاہ نواز صاحب لکھتے ہیں :- (الفضل ۱۲۔نومبر ۱۹۹۵ء صفحه ۳) عاجز افریقہ میں تھا۔جنگ کے ایام تھے۔اہلیہ کو خرچ دیر سے ملتا تھا۔ایک دفعہ ( گھر والوں نے ) امانت فنڈ سے زائد رقم مانگی مگر افسر نے انکار کر دیا (حضور کو علم ہوا تو ) آپ نے فرمایا میں ڈاکٹر صاحب کی ضمانت دیتا ہوں انہیں رقم دیدی جائے۔حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آباد بھی فدائیت اور قُرب و تعلق کا ایک خاص مقام رکھتے تھے۔حضور نے ان کی وفات پر ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا: - ///////