سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 495 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 495

437 حضور کی زمینوں کی نگہداشت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے تو حضور بہ نفس نفیس میری شادی میں شامل ہوئے۔اللہ ! خدا تعالیٰ کے اس محبوب انسان کو اپنے خدام کا کس قدر خیال تھا۔میرے پھوپھا منشی نور محمد صاحب کے مکان پر جہاں شادی کی تقریب کا انتظام تھا عصر کے وقت مع اپنے اہلِ بیت تشریف لائے۔مستورات اندر چلی گئیں اور حضور ایک کمرہ میں دری اور سفید چادر کے فرش پر جہاں دیگر دوست بیٹھے ہوئے تھے تشریف فرما ہوئے۔اور شربت کا گلاس پیش کیا گیا۔حضور نے شربت نوش فرمایا اس کے بعد دعا فرمائی اور پھر اندر صحن میں جہاں مستورات تھیں تشریف فرما ہوئے اور میری اہلیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کمال شفقت سے بلکہ پدرانہ شفقت سے رخصت فرمایا اور لمبی دعا فرمائی چونکہ میری اہلیہ کے والدین فوت ہو چکے تھے اس لئے حضور نے نکاح بھی خود ولی بن کر پڑھا تھا اور رخصتانہ کے وقت بھی تشریف لا کر ذرہ نوازی کا ثبوت دیا۔جس سے ظاہر ہے کہ حضور کو اپنے خدام سے کیا تعلق تھا کیونکہ حضرت والد صاحب ان دنوں میں آپ کی زمینوں پر خدمت کر رہے تھے اور ادھر میری اہلیہ بھی چونکہ یتیم تھیں اس لئے یہ بھی ظاہر ہے کہ قیموں کا بھی حضور بیحد خیال رکھتے تھے۔لاہور میں ایک مرتبہ حضور پرنور نمبر ۴ میکلوڈ روڈ پر مکرم عبدالرحیم صاحب درد کی صاحبزادی کے رخصتانہ کے موقع پر تشریف فرما ہوئے چیف جسٹس منیر احمد صاحب بھی اس موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے۔حضور کے طلب فرمانے پر صرف ایک سادہ پانی کا گلاس پیش کیا گیا جو حضور نے نوش فرمایا۔حاضرین جو ایک کمرہ میں جمع تھے ان میں سے ایک دوست نے تلاوت کی اور شاید ایک دوست نے نظم پڑھی اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی اور تشریف لے گئے۔میرے نانا جان حضرت چوہدری کریم بخش صاحب نمبر دار رائے پور ریاست نا بھ ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) قادیان تشریف لائے ہوئے تھے اور پیشاب کی بندش کی تکلیف تھی۔بیماری کی وجہ سے نانا جان تو ہسپتال سے جا کر حضور کی زیارت نہ کر سکتے تھے لیکن ان کی خواہش تھی کہ حضور کی