سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 494
436 اس وقت حضور نے جو الفاظ فرمائے ان سے بھی حضور کی اس شفقت اور نوازش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو حضور اپنے خدام پر فرماتے ہیں فرمایا : - اس وقت تکلیف بڑھ گئی ہے اسلئے تقریر ختم کرتا ہوں اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو میں کل بھی آنے کی کوشش کروں گا اور آج رات کو ایک گھنٹہ کے لئے احباب سے ملاقات کرنے کی بھی کوشش کروں گا لیکن اگر اس وقت تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو احباب بُرا نہ منائیں بیماری کی وجہ سے معذور ہوں“ اللہ اللہ ! یہ ایک ایسا آقا فرما رہا ہے جس کے اشارے پر ہزاروں انسان جانیں تک قربان کر دینے کے لئے تیار ہیں اور جو ایک لمحہ کے پس و پیش کے بغیر اپنا سب کچھ آپ پر شار کر دینا اپنے لئے باعث سعادت دارین سمجھتے ہیں ایسے خدام کو مخاطب کر کے معذرت کا اظہار فرمانا اور وہ بھی ایسی حالت میں جب کہ بیماری کی تکلیف نا قابل برداشت حد تک پہنچنے کا خطرہ ہو اس شفقت۔اور نوازش کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے ۲۸۔دسمبر کو بھی حضور جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور دو گھنٹہ اپنے خدام کو دنیا میں غلبہ پانے اور دین میں سرخروئی حاصل کرنے کے متعلق نہایت اہم ہدایات ارشاد فرما ئیں۔حالانکہ گزشتہ رات علالت کی وجہ سے بہت تکلیف میں گزاری تھی ضعف حد سے بڑھ گیا اور کمزوری بے حد ہو گئی تھی اس قدر تکلیف میں رات بسر کرنے کے بعد حضور نہ صرف جلسہ گاہ میں تشریف لائے نہ صرف مسلسل دو گھنٹے حضور نے نہایت اہم امور پر تقریر فرمائی بلکہ تقریر کے خاتمہ پر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس وقت میں اپنی طبیعت میں بجائے تکلیف کے بشاشت پاتا ہوں یہ بشاشت اس لئے تھی کہ حضور نے باوجود شدید علالت کے خدام کا خالی ہاتھ جانا پسند نہ فرمایا بلکہ انتہائی تکلیف اور کوفت برداشت کر کے ان کے دامن ایسے قیمتی موتیوں سے بھر دیئے جو نہ صرف ان کے لئے بلکہ ان کی نسلوں کے لئے کام آتے رہیں گے انشاء الله۔الفضل ۳۱۔دسمبر ۱۹۴۵ء صفحه ۱) حضور کی اپنے خدام سے شفقت و عنایت کے بعض واقعات بیان کرتے ہوئے مکرم مسعود احمد صاحب خورشید لکھتے ہیں :- حضور پرنور نے ۵۔فروری ۱۹۴۲ء کو خاکسار کے نکاح کا اعلان فرمایا اور ۱۱ مئی ۱۹۴۲ء کو جب میری شادی ہوئی تو اس وقت والد صاحب سندھ میں