سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 463
405 حیثیت سے آپ نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے کانگریسی مسلمانوں اور مجلس احرار کے ذمہ دار افراد سے جو جماعت کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہے تھے رابطہ قائم فرمایا اور کوشش کی کہ اس اہم قومی کام میں ہر مکتب فکر کے افراد شانہ بشانہ شامل ہوں۔اس امر کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: جس وقت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس شملہ میں منعقد ہوا تو جو ممبر اُس وقت موجود تھے اور جس میں ڈاکٹر سر محمد اقبال اور خواجہ حسن نظامی صاحب اور خاں بہا در رحیم بخش خاں صاحب بھی تھے اس وقت تجویز کی گئی کہ اس کمیٹی کو آل انڈیا حیثیت دینی چاہئے اور صدر کو اختیار دیا جائے کہ وہ اور ممبروں کو کمیٹی میں شامل کریں۔اس اختیار سے کام لے کر پہلا کام جو میں نے کیا یہ تھا کہ مظہر علی صاحب اظہر اور چوہدری افضل حق صاحب ( دونوں مشہور احراری لیڈر۔ناقل ) کو خطوط لکھوائے کہ مجھے امید ہے آپ اس میں شامل ہو کر ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور نہ صرف خطوط لکھوائے بلکہ ان کے ایک دوست مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی سے کہ جن کے بھائی ان لوگوں کے صدر ہیں اور جو خود کانگریسی خیالات کے ہیں وعدہ لیا کہ وہ ان لوگوں سے مل کر انہیں مجبور کریں کہ اس میں شامل ہو جائیں۔میرا منشاء یہ تھا کہ اس کمیٹی میں کانگریس کے مؤید مسلمانوں کی بھی نمائندگی ہو اور سب جماعتیں مل کر کام کریں۔لاہور سے مجھے اطلاع ملی کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صد را حمد یہ جماعت کا امام ہے اس لئے ہم اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار نہیں۔قطع نظر اس سے کہ یہ جواب درست تھا یا نہیں مجھے جب یہ بات پہنچی تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہمارا مقصد کشمیر کے لوگوں کی حالت کو درست کرنا ہے اور ان جھگڑوں میں پڑنا نہیں اس لئے میں نے تین خط لکھے ایک ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو دوسرا مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کو اور تیسرا مولوی غلام رسول صاحب مہر کو کہ اگر احرار کی مجلس کا یہی اعتراض ہے کہ میں صدر ہوں تو آپ ان کو تیار کریں کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبر ہو جائیں اور مسلمانوں کی کثرت رائے کے ساتھ چلنے کا اقرار کریں اگر وہ اس امر کے ////////