سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 462 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 462

404 مذہبی رہنما جو بد خلق اور سخت دل ہوا سے بنی نوع انسان میں قبولیت حاصل نہیں ہو سکتی اور لوگ اسے بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔اس معیار کو ذہن میں رکھتے ہوئے جماعت میں قربانی ، فدائیت اور جاں نثاری کا بے مثال جذبہ اور اس کے بے شمار شاندار عملی مظاہرے اس الزام کی تغلیط و تردید کرتے ہیں۔افراد جماعت نے ہر مشکل وقت میں آگے بڑھ کر ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے ہر قسم کی قربانی پیش کی اور ایک دو دن کی جذباتی قربانی نہیں بلکہ مسلسل قربانی پیش کرتی چلی گئی اور پھر یہی نہیں کہ جماعت کا کوئی ایک خاص طبقہ ہی قربانی میں پیش پیش رہا بلکہ مرد و عورت، بچے بوڑھے ، نوجوان ، امیر، غریب سب ہی بڑے استقلال سے، بڑے عزم سے ، بڑی بشاشت وخوش دلی سے قربانی کی محیر العقول شاندار مثالیں پیش کرتے رہے جو نہایت روشن و مضبوط دلیل ہے اس امر کی کہ ان کے دلوں کو حسن واحسان کے جلووں نے اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔خلق خدا میں قبولیت واحترام کی ایسی عمدہ مثال جو جماعت میں پائی جاتی ہے قرآنی اصول کے مطابق کسی مذہبی آمر کو ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔حضور نے قومی وملی مفاد کے ہر کام میں آگے بڑھ کر پورا پورا حصہ لیا مگر کبھی بھی نام و نمود کے حصول کی کوشش یا خواہش نہیں کی۔آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں آپ ہمیشہ ایک ممبر کے طور پر شامل ہوتے رہے اس کی سربراہی آپ کے یا کسی احمدی کے ہاتھ میں نہ تھی لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس کی ہر کامیابی میں آپ کا نمایاں حصہ تھا اور آپ نے دامے درمے سخنے کسی بھی اور لیڈر سے زیادہ مدد کی۔مسلم لیگ کو قومی مفاد کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتے ہوئے آپ نے اس کی ہر طرح مدد تو ضرور کی مگر ایک عام رکن سے زیادہ کسی عہدہ یا مفاد کی کبھی خواہش نہ کی۔اس جگہ یہ امر بھی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ مسلم لیگ کا وہ اجلاس جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئندہ اجلاس کی صدارت علامہ اقبال کریں گے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی صدارت میں ہوا تھا جو اس مجلس میں حضور کے ذاتی نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے۔یادر ہے کہ اس اجلاس میں علامہ موصوف نے وہ خطبہ صدارت پڑھا تھا جسے بعد میں آنے والوں نے تصویر پاکستان قرار دیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کے موقع پر جب اکابرینِ قوم نے باصرار آپ سے اس کی قیادت صدارت قبول کرنے کو کہا تو با وجود اپنی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات ، اپنی غیر معمولی ذمہ داریوں اور رُجحان طبع کے خلاف ہونے کے اس امر کو قبول کیا۔صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی