سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 418
375 آپ کو اپنے ہر عزیز سے خواہ وہ دور کا ہو یا نزدیک کا حقیقی لگاؤ حقیقی محبت اور حقیقی درد تھا بلکہ اپنے عزیزوں کے دور نزدیک کے رشتے کا بھی کبھی کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا“ سفر کشمیر کے دوران آپ کو حضرت اُمم ناصر کی علالت کا پتہ چلا تو آپ اپنی ساری مصروفیات کو ترک کر کے جتنی جلدی ممکن تھا اپنی اہلیہ محترمہ کے پاس پہنچ گئے اور یہ جانتے ہوئے کہ میری جلدی واپسی محترمہ کی تسلی واطمینان کا باعث ہوگی اپنے پہنچنے سے پہلے اپنے قریب آ جانے کی کسی ذریعہ سے اطلاع کر دی۔حرم محترم کے جذبات کی پاس داری کا یہ دلچسپ واقعہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں :- حضور جس وقت کوثر ناگ سے واپس مہ ناگ پہنچے تو اس جگہ آسنور سے اطلاع لانے والا موجود تھا کہ سیدہ اُمم ناصر کو تیز بخار ہو گیا ہے۔حضور جلد آسنور پہنچیں۔اس خبر پر حضور نے فیصلہ فرمایا کہ جس قدر جلد ہو سکے گا کل صبح خودا کیلے چلے جائیں گے باقی قافلہ پیچھے پہنچ جائے گا۔چنانچہ حضور نماز فجر کا سلام پھیرتے ہی گھوڑے پر سوار ہو گئے اور میرے لئے دوسرا گھوڑا منگوا لیا ہوا تھا۔مجھے اس پر سوار ہو کر ساتھ چلنے کا حکم دیا اور نیک محمد خان کو ساتھ ساتھ رہنے کا ارشاد فرمایا۔اس طرح وہ فاصلہ جو دس بارہ گھنٹہ میں طے ہونا تھا گھوڑوں کے تیز چلانے کی وجہ سے چار پانچ گھنٹے میں طے ہو گیا اور حضور جب اس بلندی پر پہنچے جہاں سے آسنور سامنے نظر آتا تھا گوتین چار میل کا فاصلہ درمیان میں تھا تو حضور نے بندوق کا ہوا کی طرف رُخ کر کے چلوائی تاکہ ہمارے علاقے میں مقیم لوگوں کو حضور کے قریب پہنچ جانے کا علم ہو۔بعد میں قریباً آدھ گھنٹہ میں گھر پہنچ گئے اور محض خدا کے فضل سے سیدہ ام ناصر کی طبیعت ایاز محمود جلد اول صفحه ۹۶، ۹۷) حضور کی صلہ رحمی کی ایک بہت عمدہ مثال مکرم محمد حسین صاحب ٹیلر ماسٹر بروایت مکرم کو بحال پایا“ خلیفہ صباح الدین صاحب بیان کرتے ہیں :- عید کے قریب وہ اپنی دُکان پر مصروفیت کی وجہ سے رات بھر کام کرتے رہے۔آدھی رات گزرنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی