سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 417 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 417

374 حضرت مہر آپا نے آپ کی اہلی زندگی میں بے تکلفی کی متعدد دلکش باتیں بیان کی ہیں کھانا پکانے بلکہ چولہا جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرنے سے۔غیر متوقع مہمان جو ہمیشہ وقت پر ہی نہیں آتے ان کے آنے پر فوری طور پر خندہ پیشانی سے آگے بڑھ کر ہماری مدد کرتے“ اس دست تعاون کے پیچھے مہمان کی خدمت کے علاوہ بیگم کی آرام وراحت اور اس کے جذبات واحساسات کی رعایت کا دُہرا جذ بہ کارفرما ہوتا تھا۔افراد خاندان کے ساتھ پکنک پر جانے کی صورت میں بھی سادگی و بے تکلفی کا عجب عالم ہوتا:۔حضور اکثر ہاتھ پر روٹی رکھتے اور اس پر سالن وغیرہ رکھ کر اس طرح کھاتے“ ایسے موقع پر بیگمات اور بچوں کا ہی خیال نہ رکھتے بلکہ :- عملہ کا خود اس طرح خیال رکھتے کہ اپنے ہاتھ سے کھانا خود برتنوں میں سے نکالتے اور ہر شخص کو دیتے اور ان کا اس حد تک خیال فرماتے کہ کھانے کے تمام لوازمات میں سے ایک ایک چیز عملہ کے ہر فرد تک پہنچ جائے“ حضرت مہر آپا بیگمات کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ ایسی صورت پیش آئی کہ گھر کے ملازم بوجہ بیماری رخصت پر تھے گھر کے کاموں کی مسلسل مصروفیت کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کا کام بھی پہلی دفعہ مجھے خود کرنا پڑا حضور نے کھانے کی خوب تعریف فرمائی بلکہ مزید حوصلہ افزائی اور قدر دانی کے طور پر حضرت اماں جان کو بھی کھانا بھجوایا اور یہ صراحت فرمائی کہ یہ بشریٰ نے تیار کیا ہے اس حوصلہ افزائی کے علاوہ آپ نے اس امر پر مسرت انگیز حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہ تم نے اتنی جلدی اتنا سارا کام کیسے کر لیا اور یہ نصیحت بھی فرمائی کہ :- اپنے اوپر اتنا بوجھ نہ ڈال لینا کہ تمہاری صحت پر اثر پڑے حضور کی اس حوصلہ افزائی دلجوئی اور توجہ کا ہی یہ اثر ہوتا تھا کہ :- ہم لوگ اس محنت اور کوفت کو بھول جاتے تھے جس میں ہم رات دن لگے رہتے یہی دل چاہتا کہ آپ ہم سے کام لیتے جائیں اور ہم بے تھکان کام کئے جائیں کام لینا بھی آپ پر ختم تھا۔کام کے دوران۔لطیفے اور قہقہے بھی ہوتے آپ کی مجلس و قربت با وجود شدید مصروفیت کے زعفران زار ہوتی“ اہل خانہ کے رشتہ داروں سے بھی حسب مراتب بہت اچھا سلوک فرماتے :-