سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 412 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 412

369 إيتَاءِ ذِي الْقُرْبی جس پر بڑا زور قرآن مجید میں دیا گیا اور كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ کے تحت جس کا عملی نمونہ آنحضرت صلی اللہی الہ سلم کے وجود سے ظاہر ہوا تھا اس پر جو عمل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے کیا وہ عدیم المثال ہے میں نے کئی بار آپ کے منہ سے یہ بات سنی آپ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ رشتہ داروں کی مدد بطور احسان کے کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ذی القربی کی مدد انسان پر فرض رکھی ہے۔تمہارے مالوں میں ان کا حق ہے ان کا حق ان کو دو اپنے عزیز، بیویوں کے عزیز عزیزوں کے عزیز کوئی بھی ایسا نہیں نکلے گا کہ کسی کو کوئی ضرورت پیش آئی ہو اور آپ نے اس کی طرف دست مروّت نہ بڑھایا ہو۔اس کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی خود ہی خیال رکھا۔افراد جماعت سے غیر معمولی محبت جماعت کے افراد کا تو کہنا ہی کیا۔یہ حقیقت ہے کہ جماعت کے افراد آپ کو اپنی بیویوں، اپنے بچوں اور اپنے عزیزوں سے بہت زیادہ پیارے تھے ان کی خوشی سے آپ کو خوشی پہنچتی تھی اور ان کے دکھ سے میں نے بارہا آپ کو کرب میں مبتلا ہوتے دیکھا۔جب آپ خلیفہ ہوئے تو اسی سال جلسہ سالانہ پر تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا: - مگر خدا را غور کرو۔کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے، کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے یا تم پر حکومت کرتا ہے یا تم سے ماتحتوں غلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے، کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ کوئی بھی فرق نہیں لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا تمہاری محبت رکھنے والا تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے مگر ان کے لئے نہیں۔تمہارا اسے فکر ہے درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولا کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ( برکات خلافت - انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۵۸) لیکن جہاں جماعت سے بے حد محبت تھی اور جو ان سے محبت رکھتے تھے ان کی قدر فرماتے ہوں“