سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 405
362 ہو اس کے نام پر قربان ها وہ شاہنشہ ہر رو سرا اسی مرا دل پاتا وہی آرام میری روح کا خدا کو اس ہے تسکین سے مل کر ہم نے پایا وہی اک راہ دین کا رہنما اسی طرح آپ کی مندرجہ ذیل تحریر بھی آپ کی آنحضرت صلی اللہ و الہ ہم سے محبت پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہے:- نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صلی اللہ و آلہ وسلم کی بہتک کرتے ہیں اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صل اللہ یہ آلہ وسلم کے لئے ہے وہ کیا جانے کہ محمد صلی اللہ یہ آلہ وسلم کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔وہ میری جان ہے میرا دل ہے۔میری مراد ہے میر ا مطلوب ہے اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ھفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں، وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اُس کا تقرب نہ تلاش کروں، میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم قرآن مجید سے عشق اسی طرح قرآن مجید سے آپ کو جو عشق تھا اور جس طرح آپ نے اس کی تفسیریں لکھ کر اس کی اشاعت کی وہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہے۔خدا تعالیٰ کی آپ کے متعلق پیشگوئی کہ کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔جن دنوں میں تفسیر کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا نہ سونے کا نہ