سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 364 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 364

320 شرط سے کہ سلسلہ کے کاموں پر ذرا بھی اثر انداز نہ ہو فارغ وقت میں یا کسی سے کام لے کر کچھ کام کر سکتے ہیں۔یہ بھی مجھے علم ہوا تھا اور آپ کی زبانی بھی سنا تھا کہ دوسرا کام کریں مگر اول اپنا کام جو اصل ہے مقدم سمجھیں یہ شرط ہے۔منصورہ بیگم میری لڑکی سے بھی بچپن سے بہت محبت کی بہت شفقت فرماتے تھے۔منصورہ غالباً تیسرے بچہ کی پیدائش کے بعد بہت بیمار ہو گئی تھیں۔۴۱ ء یا ۴۳ء میں ان کو بغرض علاج دہلی بھیجا اور تمام خرچ اُٹھایا۔علاج لمبا چلا تو منصورہ بیگم کو بہت احساس تھا کہ ماموں جان پر بہت بوجھ میری وجہ سے پڑ رہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ آپ پر اتنا خرچ میری وجہ سے پڑ رہا ہے مجھے بہت شرم آتی ہے۔تو ان کو لکھا تھا کہ تمہاری جان سے زیادہ عزیز مجھے روپیہ نہیں ہے تم ہزاروں کا لکھتی ہو اگر ایک لاکھ بھی علاج پر خرچ ہو جائے تمہاری صحت کی خاطر تو مجھے پرواہ نہیں۔ایک شفیق مگر دور اندیش باپ تھے لڑکوں پر کڑی نظر رکھتے (لڑکیوں پر بظاہر زیادہ نرمی ) قدرتا لڑکوں کے اپنی آرزو کے مطابق خادمِ دین بننے اور خدمتِ اسلام کے لئے کمر بستہ سپاہی بنا رہنے کی آپ کی دلی خواہش تھی۔کسی لڑکے کے کام کی تعریف کسی سے بھی سنتے تو خوش ہو جاتے۔جب عزیزی ناصر احمد ( خلیفة المسیح الثالث ) کو ۱۹۵۳ء میں قید رکھا گیا ہم رتن باغ میں تھے میں دیکھ رہی تھی عزیزی ناصر احمد کوٹھی کے رُخ بیٹھے تھے اُن کا چہرہ صاف نظر آ رہا تھا ایک عجیب شان ، ایک عجیب نور، ایک خاص وقار چہرہ پر برس رہا تھا یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ ناصر احمد ہی ہیں اُس وقت بجائے قیدی ہونے کے معلوم ہوتا تھا کہ ایک فاتح بادشاہ فتح عظیم کے بعد بڑی شان سے رواں ہے۔وہ چہرہ ، وہ نقشہ ، وہ خاص نور وہ شان دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ یہ محض قلبی اثر نہیں اس میں خدا تعالیٰ کا خاص تصرف شامل ہے۔یعنی خوشی سے ہر قربانی کے لئے تیار ہونے اور اطمینانِ قلب اور صبر و استقلال کا ہی اثر نہیں تھا صرف۔اس وقت تو ایک خاص بات ظاہر ہو رہی ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کا تصرف شامل ہے۔میں نے اس کا ذکر بعد میں کیا کہ اُس وقت ناصر احمد پر ایک عجیب