سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 363 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 363

319 سے الگ ہو چکے ہیں اُن کی اصلاح ہو۔جس روز حضرت میر حامد شاہ صاحب کا بیعت خلافت کا خط آیا اماں جان کے پاس آئے اور کہا مبارک ہو اماں جان! میر حامد شاہ صاحب نے بیعت کر لی۔اور پھر بیت الدعا میں چلے گئے اور کافی دیر تک لمبے سجدوں کے ساتھ شکرانہ کے نفل ادا فرمائے۔وقف اولاد آپ نے اپنے تمام بیٹے اپنی جانب سے وقف صدق دل سے کئے۔اور سب کو اللہ تعالیٰ کے قدموں میں ڈال دیا تھا۔اور یہ خواہش تھی اور خیال رہتا تھا میرے پاس بھی اظہار کیا دو تین بار کہ اول خواہش میری یہی ہے کہ لڑکیاں بھی واقفین زندگی کو دوں۔اس کے ساتھ یہ بھی خواہش تھی اور پسند یہی تھا کہ جہاں تک ممکن ہو رشتے مل سکیں تو خاندان میں شادیاں ہوں۔فرماتے تھے اس طرح حضرت مسیح موعود کی ہر دو جانب کے لئے کی ہوئی دعائیں بچوں کو حاصل ہونگی۔سندھ کے ذکر پر ایک دفعہ مجھے کہا کہ میں نے زمین خرید نے اور جائیداد کو ترقی دینے کا اب جو کام شروع کیا ہے یہ اپنے لئے نہیں بلکہ میری نیت یہ ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے، رہائش کے سٹینڈرڈ بدل رہے ہیں ، گرانی دن بدن زیادہ ہوتی نظر آتی ہے میں نے چونکہ سب لڑکوں کو وقف کیا ہے ایسا نہ ہو کہ کبھی تنگی ان کے دل میں دنیا کی رغبت پیدا کرے اور ان میں سے کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ ہمیں تنگی میں ڈال دیا ہے ان کی اوسط درجہ کی خوشحال زندگی ان کو حاصل رہے۔یہ کبھی لوگوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو مقابلہ تنگدست محسوس کر کے خدا نہ کرے ابتلاء میں نہ پڑ جائیں۔پہلے پہلے شادی شدہ بچوں کو بھی آپ نے محض اتنا خرچ دیا کہ مشکل سے گزارا ہو سکے جب آزما لیا کہ بفضلہ تعالیٰ یہ ہر حال میں شکر گزار ہیں اور کبھی شکایت نہیں کی تو بچے ہونے پر اُن کے خرچ بڑھاتے رہے۔اور زچگی بیماریوں وغیرہ پر اخراجات بھی امداداً خود کئے۔اور دیگر کوئی کام کرنے کی بھی بہت دیر کے بعد آزمائش کے بعد اجازت دی تھی اس