سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 342 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 342

298 مکرمی شیخ صاحب ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ۔میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ شفا عنایت فرمائے۔سیالکوٹ کی حالت پر افسوس ہے آپ ضرور باقی دوستوں سے مل کر اس فتنہ سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کریں اور اب جبکہ یہ لوگ صریح جھوٹ پر آمادہ ہیں میں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ جو صحیح واقعات آپ کو معلوم ہیں انہیں لوگوں پر ظاہر کریں تا کہ لوگ غلط فہمی سے محفوظ رہیں اور ان لوگوں کی قربانی کا حال انہیں معلوم ہو۔اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے۔مشکی یا بدظنی پر محمول بات کوئی نہ ہو۔استغفار بہت کریں۔تا منہ سے کوئی بات ایسی نہ نکلے جو غلط ہو یا جس کے بیان کرنے میں نیت نیک نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں نفسانی خواہشات اور کینہ تو زیوں سے محفوظ رکھے۔عداوت سے کوئی کام نہ کریں بلکہ اخلاص اور تائید حق کے لئے۔حدیث میں ہے اتنی دشمنی نہ کرو کہ بعد میں پچھتانا پڑے اور اتنی دوستی بھی نہ کرو کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔سوان نصائح کو یا د رکھ کر مناسب تدابیر سے غافل نہ ہوں۔مجھے سیالکوٹ پر رحم آتا ہے وہاں کی جماعت کو ثابت قدم رکھنے کیلئے بہت کوشش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری نصر اللہ خاں صاحب نے بیعت کر لی ہے میں نے ان کے لئے اور ایک اور شخص کے لئے دعا کی تھی اللہ تعالیٰ جماعت پر رحم فرمائے۔یہ لوگ کس طرف چلے جا رہے ہیں خدا کے کام کوئی نہیں روک سکتا اور کوئی نہیں روک سکے گا۔اگر میرا قیام خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہے اور مجھے اس کے فضل سے یقین ہے کہ ایسا ہی ہے تو یہ لوگ خواہ کس قدر ہی مخالفت کر لیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نا کام اور نا مرا در ہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس کہ وہ تلوار جو غیروں پر چلنی تھی اپنوں پر چلانی پڑی اور وہ زور جو غیروں کے مقابلہ پر خرچ کرنا تھا اپنوں پر خرچ کرنا پڑا۔بہتر ہوتا اگر یہ نہ ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کے نشان کیونکر ظاہر ہوتے کس طرح ہو سکتا تھا کہ سوئی ہوئی جماعت پھر جاگتی اگر اس طرح شور نہ پڑتا۔(الفضل ۶۔اپریل ۱۹۲۶ء صفحہ ۷ ) مندرجہ ذیل خطوط مولانا مکرم نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ انچارج غانا کے نام ہیں۔ان خطوط