سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 341
297 سامنے پھانسی لٹک رہی ہے اور اُس کو دیکھ کر اُس کی روح کانپ رہی ہے۔نواب صاحب کے کام نے اس پر پندرہ سال میں وہ اثر نہ کیا تھا جو ان پانچ دنوں نے کیا۔چہرہ مارے گھر یوں کے پہچانا نہیں جاتا۔اس کی اپنی بیوی دیکھے تو نہ پہچانے۔جب ذرا آرام ہوا تو بھی یہ حال کہ جب میں ذرا باہر لوگوں کے پاس جاؤں اور سب ساتھی اکٹھے ہوں تو ایک عجیب دردناک منظر سامنے آجا تا تھا۔گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے چاروں طرف سے ساتھی دوڑتے تھے اُٹھ کر آنے کی بہتوں میں طاقت نہ تھی مگر الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ اب آرام ہے۔الفضل ۱۲۔اگست ۱۹۶۶ء صفحه ۳) حضور کا مندرجہ ذیل خط جو ایک پیار کرنے والے باپ نے اپنی بیٹی کولکھا اس میں باپ کی محبت تو چھلک ہی رہی ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس سے بھی بڑھ کر عشق رسول کا ایک بے ساختہ اظہار ہے جس نے بچی کے دل پر ایک انمٹ نقش پیدا کیا۔صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحب لکھتی ہیں :- حضرت اباجان جب ویمبلے کانفرنس میں شرکت کے لئے لنڈن تشریف لے گئے تو آپ نے بحری جہاز سے جو پہلا خط بھیجا وہ مجھے ابھی تک نہیں بھولا اور اس کا اثر ہمیشہ مجھ پر رہا آپ کے خط کی پوری تحریر تو یاد نہیں مگر آپ کے خط کے جو الفاظ ہمیشہ میرے دل کو گرماتے رہے۔وہ یہ ہیں:۔جان پدر! آج ہم بخیریت بحیرہ عرب سے گزر رہے ہیں دیارِ محبوب کی ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوا ئیں میرے دل و جان کو معطر کر رہی ہیں اور میرا دل اپنے آقا و مطاع کے مولد و مدفن کے دیکھنے کے لئے بیقرار ہے۔زبان پر بار خدایا یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لئے تمہارا چاہنے والا باپ“ مکرم عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر لاہور کے نام مندرجہ ذیل خط سے لوگوں کی اصلاح کے لئے حضور کی خواہش اور تڑپ کا اظہار ہوتا ہے مگر تو ازن و اعتدال کی نصیحت بھی ساتھ ہی موجود ہے :-