سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 335
کیے تحت افسوس آتا ہے کہ حضرت میکی موعود علیہ السلام کا تعلق کا عظیم استان در سے کچھے ا ہارے خاندان نے قدر نہیں کیا۔ایسے نوید اتو 2 اعمال امرا فالس اسی نتاع ہے اسی نے بانک ملت نہیں جو انہیں خداتعالے نے بنا تھا اگر دنیا کا ہر تکلیف کا شکار ہو کر بھی ہم اس متاع و وقار کو تا ہی رکھنے کی کوشش کرتے تو یہ احسان الکی کا بدلہ نہ کے کوتا تھا۔ہم دوناے گا دون استانی کو برامد برا منتوں کو جھوٹا قرار دیے روپے کی اور دنیا کا چھوتا خوشیاں بار مالی بھی ہیں۔مقصد قرار دے رہے کی امدی و بانا کا مقام جو قد آتا ہے نے بخشا تھا ایک بھولا رہے انوں کے تعال ہیں۔مالا کہ جو خود ستائے تہ ہے کو جاتا ہے اللہ تعالے خود کو کا مینٹل ہو جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوقات پر سی نے صوبہ کی حالت کو دیکھتے ہوئے ، سند اپنی کی سالا اک چھوڑ دیا اور خداستانی اور فضل کا ایک ایسی حالت کو کیوں لیا کہ اگر مہ ارتقائے نہ ہوتا توی بندوستان 20 میلی ترین موجودہ اس کے ہوتا مگر