سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 289
267 طرح گندی ہے۔آپ نے پوچھا ابھی صاف نہیں کروائی۔اس نے جواب دیا کوئی آدمی آ جائے تو کرواتی ہوں۔فرمانے لگے تھوڑی دیر کے لئے تم ہی آدمی بن جاؤ پھر جھاڑو لے کر خود صاف کرنے لگے“ خود اپنے ہاتھ سے صفائی کرنے کا ذکر ایک اور واقعہ میں بھی ملتا ہے جب ایک غیر از جماعت دوست ملاقات کے لئے آئے تو انہیں جلد ملاقات کا وقت دینے اور تیاری کرنے کے لئے حضور خود بھی صفائی کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں : - پرائیویٹ سیکرٹری نے کہا کہ آج کل ملاقاتیں تو بند ہیں مگر وو چونکہ آپ خاص طور پر ملاقات کے لئے ہی آئے ہیں اس لئے میں اطلاع کرا دیتا ہوں انہوں نے مجھے اطلاع کی اُس وقت میری بیوی ایک خادمہ کے ساتھ مل کر کمروں کی صفائی کر رہی تھی اور گردو غبار اُڑ رہا تھا۔میں نے خیال کیا کہ اگر برآمدہ میں بھی ہم بیٹھے تو مٹی اور گرد کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوگی اس لئے بہتر یہی ہے کہ پہلے کمروں کی صفائی کر لی جائے چنانچہ میں نے انہیں کہا کہ کمروں کی صفائی ہو رہی ہے اور اس وقت گرد وغبار اڑ رہا ہے صفائی ہولے تو میں ان کو بلوا لوں گا۔چنانچہ وہ چلے گئے اور میں نے ساتھ مل کر جلدی جلدی مکان کو صاف کیا اور پھر گھنٹی بجائی“ ( خطبه ۱۲ را پریل ۱۹۴۰ء الفضل ۲۱ را پریل ۱۹۴۰ صفحه ۱۱) حضور کی سوانح میں یہ امر بہت نمایاں ہے کہ آپ ہر کام غیر معمولی لگن اور جذبہ سے کرتے اور کئی کئی آدمیوں کے برابرا کیلے کام کرتے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب ” بے حد محنت کی عادت کے عنوان سے لکھتے ہیں: " حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ میں ایک بات یہ بھی پائی جاتی ہے کہ بے حد محنت اور مشقت سے کام کرنے والے انسان ہیں، اور باوجود کمزوری صحت کے دن رات سخت محنت سے کام کرتے ہیں۔سفر یورپ میں حضور کے ہمراہ جن اصحاب کو جانے کا موقع ملا ، ان کا بیان ہے کہ اس سفر میں ان کو سخت محنت سے کام کرنا پڑتا تھا۔مگر دن رات ایک کر دینے پر بھی یہ ڈر رہتا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تسلی نہیں ہوئی۔۔