سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 288 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 288

266 ہے۔پرائیوٹ سیکرٹری صاحب نے ایک خط پیش کیا جس میں خط لکھنے والے نے لکھا تھا کہ ان کے کسی عزیز کو دیوانے کتے نے کاٹا ہے اور اس کے متعلق مشورہ طلب کیا گیا تھا۔حضور نے فرمایا۔اس خط کو آئے تو ایک ماہ گزر چکا ہے اور آپ اب پیش کر رہے ہیں۔جب خط کی مہر دیکھی گئی تو واقعی اس کو آئے ہوئے ایک ماہ ہو چکا تھا۔خطوط کے جواب کے متعلق حضور کا یہ طرز عمل ہے کہ خطوط کو پڑھ کر بعض فوری خطوط پر جواب لکھ دیتے ہیں۔جن کو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب لکھ کر بھجوا دیتے ہیں۔باقی ماندہ خطوط کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور حضور ان کا جواب لکھا دیتے ہیں۔اس کے علاوہ مہمانوں سے ملاقاتیں کرنے اور نظارتوں کے کام میں کافی وقت خرچ ہوتا ہے۔نہ صرف ناظر صاحبان وقتاً فوقتاً پیش آمده مشکلات پیش کر کے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں بلکہ بعض کا غذات حضور کی منظوری کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔یہ سلسلہ ۱۰ بجے سے ایک بجے تک لگاتار چلتا ہے۔پھر تصنیف کا کام ہے نیز حضور ہرفن اور ہر مذاق کی کتابیں بکثرت منگوا کر بالالتزام مطالعہ فرماتے ہیں۔ان سب مصروفیات کے باوجود حضور گھر کی ہر بات کا خیال رکھتے اور ہر ایک کا حق باحسن طریق ادا فر ماتے ہیں“ ( الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۹) حضور اپنے ہاتھ سے ہر قسم کا کام بخوشی کر لیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہادی اور سلم کے اسوه حسنه كَانَ فِى مِحْنَةِ اَهله کے مطابق زندگی بسر فرماتے تھے اس سلسلہ میں محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحب لکھتی ہیں: آپ کو کسی کام سے عار نہیں تھا، سفروں میں برتن بھی دھو لیتے ، کپڑے بستر وغیرہ بچھواتے ، باہر سے سامان اٹھا کر لے آتے ،مہمانوں کو کھانا خود اُٹھا کر دیتے ، اپنے رومال بنیان جراب وغیرہ دھو لیتے۔ایک دفعہ دفتر کے برآمدے میں کچھ سامان کھولا اور اس سے گند وغیرہ پھیل گیا اتنے میں کچھ ملنے والوں کی اطلاع ملی حضرت ابا جان نے میری ایک بہن سے کہا یہ صاف کروا دو تھوڑی دیر کے بعد آپ تشریف لائے دیکھا جگہ اسی