سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 253 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 253

230 ہر طرح مکمل حالت میں تھے حضور نے مکرم امیر صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ لوگوں کو تھوڑا بہت سامان فراہم کرنے کے لئے کہیں تاکہ ان کے مکانوں کے آگے پردے کی دیوار میں کھینچ دی جائیں۔اس ضمن میں ایک صاحب مکرم سید نیاز علی صاحب نے جو اسلامیہ کالج لاہور سے تعلق رکھتے ہیں دخل دیتے ہوئے سستے داموں مٹی فراہم کرنے کا ذمہ لیا۔مکرم امیر صاحب نے پوچھا کیا آپ بھی یہیں رہتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ میں تو نواں کوٹ میں رہتا ہوں آپ لوگوں کی بر وقت اور بے لوث خدمات مجھے سرکار ( حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کی زیارت کے لئے یہاں کھینچ لائی ہیں آپ کے خدام نے جس قدر محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہے میں اس سے بے حد متاثر ہوا ہوں مجھے ابھی ابھی پتہ لگا کہ آج سر کار اس علاقے میں تشریف لائے ہوئے ہیں چنانچہ میں سنتے ہی زیارت سے شرف یاب ہونے کے لئے دوڑا چلا آیا۔ایک بوڑھی عورت کی درد بھری درخواست حضوران مکانوں کا معائنہ کرنے کے بعد واپس تشریف لے جاہی رہے تھے کہ ایک بڑھیا عورت نے نہایت عاجزی سے درخواست کی کہ اس کے لئے ایک کمرہ اور بنوایا جائے۔اس نے کہا میرے لئے ایک کمرہ تو آپ کے آدمی پہلے ہی بنا چکے ہیں لیکن میری کئی جوان بیٹیاں ہیں اور بچے ہیں جنکے واسطے سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے اس لئے میرے واسطے ایک کمرہ اور بنوا دیا جائے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے پاس نہ اینٹیں ہیں اور نہ لکڑی اور نہ ہی مٹی وغیرہ ہے۔اس نے نہایت درد بھرے انداز میں یہ درخواست کی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کا مکان بنوا دیا جائے گا چنانچہ ساتھ ہی حضور نے مکرم قائد صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس عورت کے مکان کا ESTIMATE آج شام تک ہی پیش کر کے اس کی تعمیر کی منظوری لے لیں۔چنانچہ شام کو مکرم قائد صاحب کی طرف سے خرچ کا اندازہ پیش ہونے پر حضور ایدہ اللہ نے ہدایت فرمائی کہ اس عورت کے لئے باقاعدہ ایک پختہ کمرہ تعمیر کروایا جائے۔اس کے بعد حضور دھوبی منڈی واقع پرانی انارکلی کی تنگ گلیوں میں خدام کے ہاتھوں تعمیر شدہ مکانات کا معائنہ فرمانے اور وہاں کے لوگوں کی شکایات سننے کے بعد رتن باغ واپس تشریف لے آئے۔“ الفضل ۲- نومبر ۱۹۵۴ء صفحه ۸۱)