سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 14
14 پی جب کہ تمام احباب روزہ دار تھے۔اس طرح آپ نے عملی رنگ میں سفر کی حالت میں روزہ ملتوی کر دینے والے اہم قرآنی حکم کی تعمیل کروائی اور مجھے نہایت ہی عمدہ طریق سے نصیحت و ہدایت سے نواز ا لیکن نصیحت کا یہ طریق کس قدر عمدہ ، مشفقانہ اور موثر تھا !!! قادیان کے ایک حصہ کی پچاس ایکڑ سے زائد زمین جو کہ رہائشی بن چکی تھی اس کے جھگڑے سے متعلق ایک اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ڈسٹرکٹ کورٹ میں پہلی اپیل پر فیصلہ حضرت صاحب اور آپ کے بھائیوں کے خلاف ہوا تھا۔حضرت صاحب سے کہا گیا تھا کہ اپیل ضرور دائر کی جائے کیونکہ صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب مرحوم نے خواب میں دیکھا تھا کہ اپیل کامیاب ہو گئی ہے۔چنانچہ اپیل کی سماعت کا حق مل گیا حضرت صاحب نے مجھے بلا بھیجا اور بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر سر محمد شفیع اور مسٹرپٹ مین ( دونوں لاہور کی بار میں چوٹی پر تھے ) کو بطور وکلاء کیا جائے لیکن آپ نے محسوس فرمایا کہ محنت ، وفاداری اور سرگرمی کو تجربہ پر فوقیت دینی چاہئے اور مجھ سے یہ خواہش ظاہر فرمائی کہ میں میاں محمد شریف صاحب کی معاونت کے ساتھ اس اپیل کی وکالت کروں۔مجھے پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا۔وہ دن میرے بار میں ابتدائی ایام تھے اور مجھے ہائی کورٹ میں کام کا تجربہ بہت ہی کم تھا۔بار کے نہایت ہی معروف اور آزمودہ کا ر سر کردہ وکلاء میں سے میرے انتخاب پر ترجیح میری کسی ذاتی قابلیت کیوجہ سے نہ تھی بلکہ یہ صرف اور صرف میرے واجب الاحترام اور بے نظیر آقا کی نگاہ شفقت و عنایت تھی۔میں نے کچھ اضطراب محسوس کیا لیکن اُس اعتماد کیوجہ سے جو حضرت صاحب نے عاجز پر کیا تھا میں نے کافی مدد محسوس کی اور پھر میرا حوصلہ یہ معلوم کر کے کافی مضبوط ہو گیا کہ آپ اپیل کی کامیابی کے لئے دُعا فرما ئیں گے۔میں نے اپنے معزز ساتھی میاں محمد شریف صاحب کی مدد اور تعاون کیوجہ سے کافی آرام پایا جو کچھ سالوں سے اچھی پریکٹس کر رہے تھے، گو اُس وقت کے قوانین کے مطابق میرا مرتبہ سینیارٹی (Seniority) کے لحاظ سے نسبتاً بلند تھا۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری