سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 212 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 212

208 چاہے اسے رد کر کے اس دنیا اور اگلے جہاں کی جنت سے محروم ہو جائے کیونکہ وہاں کی جنت کی ابتداء یہیں سے ہوتی ہے اور وہ جنت یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔اگلے جہاں میں اسے وہی شخص حاصل کر سکے گا جو اسی دنیا میں لے چکا ہے۔جو لوگ مرنے کے بعد جنت کو تلاش کرنے کا خیال کرتے ہیں ان پر تو وہی مثل صادق آتی ہے کہ لڑکا بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔انسان کے اپنے ہی دل میں جنت و دوزخ ہوتی ہے لیکن وہ اسے کسی دوسری جگہ خیال کرتا ہے اور محروم رہ جاتا ہے حالانکہ اگر وہ اسے اپنے دل میں تلاش کرے تو کامیاب ہو الفضل ۱۸۔اکتوبر ۱۹۳۲ ء صفحہ ۱۰) جائے۔اصلاح کا صحیح طریق اختیار کرنے کی تلقین میں ارشاد فرماتے ہیں :- خوب یا درکھو کہ خدا کا تقویٰ اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کی محبت کسی ایسے شخص کو نہیں ملتی جس کا دل سخت ہو۔جس میں دوسروں کے لئے رقت اور سوز پیدا نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ اپنا نور انہی لوگوں کو عطا کرتا ہے جن کے دلوں میں شفقت ہوتی ہے، رافت ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے محبت ہوتی ہے۔اگر کسی بدی کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ تمہاری آنکھیں سرخ ہوں ان سے آنسو بہہ نکلیں تو میں یقیناً کہ سکتا ہوں کہ فوراً اس کا اثر شروع ہو جائے گا۔مگر تم بجائے دوسرے کی بدی پر آنسو بہانے کے لٹھ لے کر اس کے پیچھے دوڑتے ہو اور پھر شکوہ کرتے ہو کہ اصلاح نہیں ہوتی۔کبھی لٹھ مارنے سے بھی دوسرے کی اصلاح ہو سکتی ہے۔تم اس طریق پر عمل کرو جو قرآن کریم نے مقرر کیا ہے اور پھر دیکھو کہ تمہاری باتوں کا اثر ہوتا ہے یا نہیں۔قرآن مجید نے تو تمہیں بتایا ہے کہ جب تم کسی بچے کو بدی کرتے دیکھو تو بجائے لٹھ مارنے کے اس کے لئے روڈ اور چیخو اور چلاؤ کہ ہائے ہمارے اس بچے کو کیا ہو گیا۔پس یاد رکھو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پہلے اپنی اصلاح کرو اور پھر دوسروں کی اصلاح کے لئے کھڑے ہو۔اگر تم اصلاح کرنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہو جاؤ، اس کے حضور جھکو اور گریہ وزاری سے کام لو، لڑکوں کے لئے عاجزی اور تفرع سے دعائیں کرو پھر