سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 211
207 پر رحم نہیں آیا کرتا بلکہ لوگ اس پر ہنسا کرتے ہیں مجھے تو خصوصیت سے بیوقوفی بہت ہی بڑی لگا کرتی ہے۔میں یہ ہرگز نہیں مان سکتا کہ مومن بیوقوف ہوتا ہے مومن تو بہت ہی زیرک اور ہوشیار ہوتا ہے (الفضل یکم فروری ۱۹۴۷ء صفہ ۲) جس طرح بیوقوفی سے نقصان ہو سکتا ہے اسی طرح افواہیں پھیلانے اور الزام تراشی سے بھی جماعتی اتحاد و اتفاق کو بے پناہ نقصان پہنچ سکتا ہے اسکے سدباب کے لئے آپ ایک آسان طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- پس جب بھی کوئی شخص تمہارے پاس آ کر اس قسم کی کوئی بات کرے تو اسے پکڑ لو اور اسے کہو کہ اس کا ثبوت دو ور نہ چلو امور عامہ میں۔وہ ( بھی ) پیچھا چھڑا کر بھاگیں گے اور کہیں گے ہم نے تو تمہیں دوست سمجھ کر یہ بات کہہ دی تھی اور سمجھا تھا کہ تم بلا تحقیقات یہ بات مان لو گے۔۔یہ ایک چھوٹا سا گر ہے جس کو بچے بھی سمجھ سکتے ہیں۔جب بھی تم کسی دوسرے پر الزام لگاتے سنو تم اسے پکڑ لو اور اسے امور عامہ میں لے جاؤ۔یہ ایک خلق ہے اگر تم اسے اپنے اندر پیدا کر لو تو سارے کام ٹھیک ہو جائیں گے“ (الفضل ۲۵۔مارچ ۱۹۵۱ء صفحه ۵ ) اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا : - ہر الزام سچا نہیں ہوتا۔بعض لوگ ہر بات سن کر یقین کر لیتے ہیں کہ سچی ہوگی حالانکہ ایسی باتوں میں سے ۹۹ فیصدی غلط ہوتی ہیں مثل مشہور ہے کہ پر سے کووں کی قطار میں بن گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے سمجھنا چاہئے کہ ہر خبر جو پہنچے کچی نہیں ہوتی اگر اس بات کو مدنظر رکھا جائے تو بہت سے فتنوں سے انسان محفوظ رہ سکتا الفضل ۲۶ جنوری ۱۹۲۶ ، صفحہ ۱۰) ہے ، جنت کے حصول کا ایک نہایت مفید و مؤثر طریق بتاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔دنیاوی نقصانات پر غمگین ہونا، دنیا کی تکالیف پر دلگیر اور اندوہ گئیں ہونا دنیا کی دوزخ ہے لیکن خدا کی رضا پر راضی رہنا ، دنیا کی تکالیف پر صبر کرنا خدا کی راہ میں جان و مال غرض کہ ہر چیز کی برضا و رغبت قربانی کرنا دنیا کی جنت ہے۔یہ ایسی جنت ہے جو ہر شخص کے قبضہ میں ہے، جو چاہے لے لے اور جو